نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مارچ, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

لیلتہ القدر کی تلاش کیسے ؟ (اعتکاف بیانات : بیان نمبر ۳ )

 بعد نماز فجر  اعتکاف بیانات : بیان نمبر ۳  بتاریخ: ۱۱ مارچ ۲۰۲۶ نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم، اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ آمنتُ باللہ، صدق اللہ العظیم۔ رمضان المبارک میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ مسلمان مومن کی بابت جو بڑا اعلان فرماتا ہے، وہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہے؛ جس میں وہ باتیں ہیں جو کسی اور دن، رات یا مہینے میں اللہ سبحان وتعالیٰ نے  نہیں بتائیں۔ یہ مومن کی معراج ہے، جیسا کہ فرمایا گیا کہ جو اس دنیا میں آنکھ رکھتا ہے وہ قیامت والے دن بھی آنکھ والا ہوگا، اور جو یہاں اندھا رہا وہ وہاں بھی اندھا ہی اٹھایا جائے گا۔ ہزار مہینوں سے افضل  اس کی ایک رات "لیلۃ القدر" ہے۔ لیلتہ القدر عام رات نہیں ہے کہ وہ عام رات کی طرح وقت رکھتی ہو۔ عام رات کی طرح اس کوئی بھی چیز موجود نہیں ہے۔ اور اس رات کے بارے میں فرمایا کہ اسے تلاش کرو۔  جب ایک مزدور اپنی مزدوری ختم کرتا ہے تو اسے اجرت دی جاتی ہے۔ جب آخری ...

متقی کا روزہ ہے!

 *متقی کا روزہ!* *مفہوم از: عبدالرحمان عاجز* *بعد نماز فجر: بیان دوئمٌ* *11-march-2026* آخری عشرے میں دو باتیں ہیں جو آپ کو اور ہمیں وہ روزہ دیتی ہیں جو اللہ کا، نبی ﷺ اور ہر ایک کے اپنے اپنے سائیں جی کا روزہ ہے۔ "اپنا اللہ" یا "اپنا نبی ﷺ" سے مراد یہ ہے کہ جو جتنا اپنے اللہ کو جانتا ہے، اس کے لیے اس کا اللہ اتنا ہی (قریب) ہوتا ہے۔ جب کوئی مرید رمضان مبارک میں اپنے سائیں جی کی زیارت کرتا ہے، تو وہ حقیقت میں نبی ﷺ ہی کی زیارت ہوتی ہے؛ اور جب کوئی اپنی پہچان میں نبی ﷺ کی زیارت کرتا ہے، تو وہ اللہ پروردگار کی تجلی کی زیارت ہوتی ہے۔ یہ دو کام کرنے سے آپ کو روزے کی حقیقت حاصل ہو جائے گی: ۱۔ سائیں جی کی طرح روزہ رکھو: آپ کہیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ جیسے وہ بتاتے ہیں، ویسے روزہ رکھو۔ یہ وہ بات ہے جس سے آپ کا روزہ اللہ کے نبی ﷺ کے روزے کی طرح ہو جائے گا۔ ۲۔ سائیں جی کے بتائے ہوئے طریقے پر چلو: اس آخری عشرے میں وہ روزہ رکھ لو جو سائیں جی بتاتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ اللہ کا روزہ ہے، نبی ﷺ کا روزہ ہے اور خود سائیں جی کا روزہ ہے۔ اس طریقے پر روزہ رکھن...

بیان: استقبالیہ و مبارک باد (اعتکاف رمضان المبارک)

  بیان: استقبالیہ  و مبارک باد (اعتکاف رمضان المبارک) بعد نماز مغرب ۲۰ روزہ بتاریخ ۱۰ مارچ ۲۰۲۶ بیان نمبر ۱ مفہوم از: عبدالرحمان عاجز  پروگرام کے مطابق، انشاء اللہ العزیز آپ کے ساتھ عشاء کے بعد بیٹھنا نصیب ہوگا۔ اللہ کے فضل و کرم سے یہ عاجز (ہمارے پیارے سائیں جی کریم) آپ کے پاس آپ کو مبارک باد دینے، ویلکم کرنے اور اللہ کی راہ میں آپ کے آنے کی خوشی کا اظہار کرنے کے لیے بیٹھا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں یہ موقع بخشا ہے۔ آپ نے اب اپنے آپ کو اپنے اللہ، اپنے نبی رسول علیہ السلام، اپنے سائیں جی   اور اپنے ماں باپ کی رضا کے حصول کے لیے وقف کر دینا ہے۔ یہ دن آپ کے جنت میں بیٹھنے کے دن ہیں؛ یہ دن آپ کے نبی ﷺ اور اپنے سائیں جی کے ساتھ بیٹھنے کے ہیں۔ حقیقت، رحمت، محبت میں سیدنا آدم علیہ السلام اور اماں حواؑ تک، ان سب بزرگوں کے ساتھ بیٹھنے کے ہیں۔ یہ آپ کا اصلی گھر ہے جہاں آپ کو اللہ نے پہنچا دیا ہے۔ آج یہاں بیٹھ کر آپ نے ان ہستیوں کے ساتھ جو وقت گزارنا ہے، یہی باتیں آپ کو جنت میں آپس میں ملاقات دیں گی۔ یہ ملاقات جو آپ یہاں اپنے سائیں جی، اپنے نبی رسول ﷺ اور اپنے اللہ...

روزہ سے رضا بیان اتوار

  بیان: اتوار پروگرام ۱۷ روزہ (۱۷ رمضان ۲۰۲۶ء / ۸ مارچ ۲۰۲۶ء) ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (سورہ البقرہ: 183) اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: "اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کر سکو۔" باری تعالیٰ کی منشا اور چاہت یہ ہے کہ بندے متقی ہوں، وہ اللہ کے ساتھ ہوں اور اللہ ان کے ساتھ ہو؛ وہ اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ ہوں اور اللہ کے بندے ان کے ساتھ ہوں۔ یہی وہ "سنت اللہ" ہے جو ہمیشہ سے چلتی آئی ہے۔ اللہ خود بتاتا ہے کہ میں نے یہ روزے پہلوں پر بھی اسی لیے فرض کیے تھے اور تمہیں بھی اسی لیے دے رہا ہوں۔ اگر کوئی اللہ کی اس چاہت کے مطابق نہیں ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ مومن بنے اور پھر اپنے ایمان کی تصدیق کرے۔ مومن کا اپنے ایمان کی تصدیق کرنا دراصل ایک ظاہری اقرار ہے: اٰمَنتُ بِاللّٰہِ وَ مَلئِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَ رَسُلِہِ وَ لیَومِ الاٰخِرِ وَ القَدِر خَیرِہِ وَ شَرِّہِ مِنَ اللّٰہِ ...

حکم دینے والی ذات کا ادب

*حکم دینے والی ذات کا ادب* *مفہوم از: عبدالرحمان*  **بیان بعد نماز عشاء: روزہ ۱۷ رمضان المبارک ۲۰۲۶ء** روزہ عبادت ہے اور ہر عبادت میں دو چیزیں ہیں۔ اگر کوئی عبادت میں یہ دو چیزیں پوری نہیں کرتا تو وہ محروم ہے۔ محروم بھی ایسا جو جنت سے نہیں بلکہ اللہ کے فضل سے ہی محروم رہ جاتا ہے۔ اس کی پہلی مثال شیطان ہے۔ شیطان بھی اسی لیے محروم ہوا کیونکہ اس نے عبادت میں پہلی چیز تو رکھی لیکن دوسری چیز اس سے فوت ہو گئی۔ فوت بھی ایسی کہ اس نے خود اپنے ہاتھوں سے اسے قتل کر دیا جیسے قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا تھا۔ کوئی اللہ تعالیٰ کو تو (نعوذ بااللہ) قتل نہیں کر سکتا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہاتھ دھو کر محروم ہو سکتا ہے چاہے اس نے کتنی ہی عبادت کیوں نا کی ہو۔  جیسے روزہ نماز حج زکٰوۃ وغیرہ عبادات ہیں کہ یہ اللہ کا حکم ماننے کا نام ہے ویسے ہی امی جی کا، ابا جی کا، سائیں جی کا حکم ماننا بھی عبادت ہے۔ عبادت کا حکم دینے والا اللہ تعالیٰ ہے ، اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ ہیں، سائیں جی ہیں، ماں باپ ہیں۔ کوئی ان کا حکم تو مانے یعنی عبادات تو کرتا ہو لیکن ان حکم دینے والوں کو یا ان میں کسی ایک کو نا مانتا ہ...