نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حکم دینے والی ذات کا ادب

*حکم دینے والی ذات کا ادب*

*مفہوم از: عبدالرحمان*

 **بیان بعد نماز عشاء: روزہ ۱۷ رمضان المبارک ۲۰۲۶ء**


روزہ عبادت ہے اور ہر عبادت میں دو چیزیں ہیں۔ اگر کوئی عبادت میں یہ دو چیزیں پوری نہیں کرتا تو وہ محروم ہے۔ محروم بھی ایسا جو جنت سے نہیں بلکہ اللہ کے فضل سے ہی محروم رہ جاتا ہے۔ اس کی پہلی مثال شیطان ہے۔ شیطان بھی اسی لیے محروم ہوا کیونکہ اس نے عبادت میں پہلی چیز تو رکھی لیکن دوسری چیز اس سے فوت ہو گئی۔ فوت بھی ایسی کہ اس نے خود اپنے ہاتھوں سے اسے قتل کر دیا جیسے قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا تھا۔ کوئی اللہ تعالیٰ کو تو (نعوذ بااللہ) قتل نہیں کر سکتا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہاتھ دھو کر محروم ہو سکتا ہے چاہے اس نے کتنی ہی عبادت کیوں نا کی ہو۔ 

جیسے روزہ نماز حج زکٰوۃ وغیرہ عبادات ہیں کہ یہ اللہ کا حکم ماننے کا نام ہے ویسے ہی امی جی کا، ابا جی کا، سائیں جی کا حکم ماننا بھی عبادت ہے۔ عبادت کا حکم دینے والا اللہ تعالیٰ ہے ، اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ ہیں، سائیں جی ہیں، ماں باپ ہیں۔ کوئی ان کا حکم تو مانے یعنی عبادات تو کرتا ہو لیکن ان حکم دینے والوں کو یا ان میں کسی ایک کو نا مانتا ہو، ان کا ادب نا بجا لاتا ہو؛ تو بھلا اس کی عبادت کیسے باقی رہ پائے گی؟ 

یہی وہ نکتہ تھا جس پر اللہ نے شیطان سے پوچھا:

قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ۖ (سورہ ص: 75) "اے ابلیس! تجھے اس ہستی کو سجدہ کرنے سے کس نے روکا جسے میں نے خود بنایا؟"

یہ سجدہ ظاہری تو حکم ماننا تھا کہ حکم مانتا تو عبادت ہوتی۔ وہ عبادات تو کرتا آیا تھا لیکن اب عبادت کا دوسرا پہلو جو عبادات کی اصل ہے (عبادت کا حکم دینے والی ذات اللہ کا بندہ) اس کا شیطان نے یہاں انکار کر دیا۔ 

اس بات کو سمجھنے والا ہے جسے یہ دو چیزیں ملیں گی جو اس کی عبادت کو کامل کر دیں گی۔ ایک عبادت کا حکم ملے گا کہ وہ حکم مان کر عبادت کرے گا اور ایک تقویٰ ملے گا جس میں اسے حکم دینے والی ذاتیں جو عطاء ہوئی ہیں ان کا ادب ملے گا جس سے اس کی عبادت اس کے اپنے ہاتھوں فوت نہیں ہو گی۔ یہ وہ ہو گا جو حکم دینے والے اللہ تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ کے نبیﷺ ، اپنے استاد سائیں جی، اور اپنے ماں باپ کو بھی مانتا ہو گا اور ان کا حکم بجا لانے کے ساتھ ان کا ادب بھی بجا لاتا ہو گا۔ ورنہ کوئی ان کا حکم تو مان کر عبادت کرے لیکن ان کے ساتھ بے ادبی کرے تو قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے: 

*﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾*

اے ایمان والو! نبی ﷺ کی آواز سے اپنی آواز اونچی نہ کرنا۔

*﴿وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ﴾*

اور جس طرح عام دنیا میں بیٹھ کر آپس میں باتیں کرتے ہیں، ویسے ان کے ساتھ بیٹھ کر بات بھی نہ کرنا۔

*﴿أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ﴾*

یہ اعمال جو کہ عبادت کے ہیں، جیسے شیطان کے غارت ہو گئے، ویسے ہی غارت ہو جائیں گے۔


عبادت کا حکم دینے والی چار ہستیاں ہیں جن کا ادب لازم ہے: اللہ تعالیٰ، نبی کریم ﷺ، سائیں جی اور ماں باپ۔ جو ان کے ادب سے محروم رہا، وہ ان کی رضا سے بھی محروم ہو گیا۔ شیطان کی مثال سامنے ہے جس نے جب اللہ کا حکم نہ مانا تو نبی ﷺ، ان کے نائبین، اور سیدنا آدم و حوا علیہ السلام سمیت تمام مومن والدین اس سے ناراض ہو گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کے پاس باقی کیا بچا؟ وہ اعمال جن پر اسے ناز تھا، وہ تو محض اس لیے 'عمل' کہلاتے تھے کہ اس نے حکم دینے والے کا حکم مانا تھا۔ عبادت کوئی پہاڑ چڑھنے کا نام نہیں، بلکہ جس کی عبادت مقصود ہے (اللہ)، اس کے حکم کے آگے سر جھکا دینے کا نام ہے۔ جب اللہ ہی کا یہ حکم ہے کہ اس کے رسول ﷺ، سائیں جی اور والدین کی اطاعت کی جائے، تو انہیں ناراض کر کے عبادت کی حقیقت بھلا کیا باقی رہ جائے گی؟

یہی وہ مقام ہے جس کی بابت فرمایا گیا: ﴿أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ﴾ (کہیں تمہارے اعمال غارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو)۔ شیطان جو اللہ کے اس قدر قریب تھا، اس کے عمل بھی اسی بے ادبی کی نذر ہو گئے۔ جب اللہ کسی سے ناراض ہوتا ہے تو اس کی ناراضگی کے ساتھ ہی اللہ کے تمام انبیاء و رسل، قیامت تک آنے والے تمام سائیں جی اور آدم علیہ السلام و اماں حوا سے لے کر تمام مومن والدین بھی ناراض ہو جاتے ہیں۔ اب بتائیے کہ اس کے پاس کیا بچا؟ بظاہر جو عمل 'عبادت' کہلاتا تھا، اللہ اسے بھی ختم کر دیتا ہے اور وہ قبولیت کے درجے سے گر جاتا ہے۔ شیطان کے پاس کچھ باقی نہ رہا اور یہی انجام ہر بے ادب کا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جو اس مقام سے گر جائے، وہ دوبارہ ادب کے دائرے میں کیسے داخل ہوتا ہے؟

دوبارہ ادب میں وہ داخل ہوتا ہے جو اپنے اس ترک کردہ حکم کو دوبارہ اختیار کر لے۔ اور یہ اختیار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ نبیِ کریم ﷺ کے حضور رجوع کرے کہ "حضور! میں نے اللہ کو ناراض کر کے آپ کو بھی ناراض کیا ہے، جب تک آپ مجھ سے راضی نہیں ہوتے میرا کام نہیں بن سکتا؛ میں عاجزی سے آپ سے معافی اور رجوع کا طلبگار ہوں"۔ اگر نبی ﷺ ظاہری طور پر موجود نہ ہوں، تو ان کے نائب (سائیں جی) کی طرف رجوع کرے، کیونکہ وہ بھی اسی لیے ناراض ہیں کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ناراض کیا ہے۔ جب تک ان سب کو راضی نہ کر لیا جائے، رمضان کے روزے ہوں یا دیگر عبادات، کچھ بھی قبولیت نہیں پاتا۔

اگر والدین ناراض ہیں تو ان کے حضور پہنچ کر انہیں راضی کرے، اور اگر سائیں جی ناراض ہیں تو انہیں منائے۔ سائیں جی اس بات سے آگاہ ہوتے ہیں کہ جب اس نے اللہ کا حکم چھوڑا تو دراصل نبی ﷺ کی تعلیم سے روگردانی کی۔ جب بندہ ان ہستیوں کو راضی کرنے کی تڑپ لے کر آتا ہے، تو وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اس کا اندازِ رجوع اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو پسند ہے یا نہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ اللہ اس سے راضی ہو گیا ہے، تو وہ خود بھی راضی ہو جاتے ہیں؛ کیونکہ ان کا اپنا کوئی ذاتی مفاد یا دنیاوی کاروبار تو ہوتا نہیں، ان کا تعلق تو سراسر رضائے الٰہی سے ہے۔

ایمان کے دو ہی رخ ہیں: ایک اللہ کا حکم ماننا (عبادت) اور دوسرا ان چار ہستیوں کا ادب و تمیز۔ جو ادب نہیں جانتا، اس کی عبادت بے معنی ہے۔ بے ادب شخص روحانی طور پر "ہجڑا" ہو جاتا ہے جو نہ عورتوں میں شمار ہے نہ مردوں میں، اور وہ اسی حالت میں اٹھایا جائے گا۔ یہ بے ادب ایسا بے حیاء ہوتا ہے کہ فرمایا جاتا ہے *﴿فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ﴾*۔  

حکم ماننے میں اگر کبھی اللہ کا کوئی حکم چھوڑنے کی ضرورت پیش آئے، کوئی عملِ صالح چھوڑنا پڑے یا سائیں جی کی صحبت چھوڑنے کی ضرورت درپیش ہو، تو خود سے ہی نا چھوڑ بیٹھنا بلکہ اپنے سائیں جی سے اجازت طلب کر لینا۔ کیونکہ سائیں جی دیکھیں گے کہ آیا یہ عذر بنتا بھی ہے کہ نہیں اور پھر وہ اس کی تعلیم کریں گے۔ ورنہ یاد رکھو حکم بھی ہاتھ سے جائے گا اور یہ حکم دینے والے کی بے ادبی بھی شمار ہو گی۔  بے ادبی کی صورت میں نہ تمہارا عمل باقی رہے گا اور نہ تمہاری کوئی حیثیت"پھر کیا تو اور کیا تیرے عمل کی حقیقت"۔ دین سراسر ادب اور حیا کا نام ہے، اور یہی سورہ الحجرات کا اصل پیغام ہے جو ہر اس ہستی کے لیے ہے جو اللہ کی طرف سے حکم دینے کا اہل ہے۔

وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ سے مانگنا اور اللہ سے ہی لینا

بیان بعد نمازِ عشاء — 24 دسمبر 2025 ارشادِ پاک ہے کہ منافق وہ لوگ ہیں جو اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں: یخادعون اللہ والذین آمنوا ۔ یعنی وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں، لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ کوئی اللہ کو دھوکہ دے سکتا ہو یا کوئی اللہ کا دوست ہو، اللہ کا ساتھی ہو، اور کوئی اسے دھوکہ دینے کے قابل ہو۔  دراصل یہ منافقین اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مانگتے تو اللہ سے ہیں لیکن لیتے کسی اور سے ہیں۔

اللہ کا دوست یا اللہ کا بندہ

  بیان بعد نمازِ عشاء مورخہ 23 دسمبر  2025 مفہوم از: عبدالرحمان اللہ کی چاہت رکھنے والا انسان دو حالوں میں ہوتا ہے: یا تو وہ اللہ کا دوست بن جاتا ہے، یا پھر اس راستے پر چلتے چلتے اللہ کا بندہ بن جاتا ہے۔ اللہ کا دوست، یعنی اللہ کا ولی، وہ ہوتا ہے جو اپنے اللہ کو اپنا دوست بناتا ہے اوروہ سارے کام کرتا ہے جس میں اللہ سبحان و تعالیٰ اسے اپنا دوست بنا لیتا  ہے۔ یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ وہ اللہ کو دوست بناتا ہےاور اللہ اس کا دوست ہو جاتا ہے ۔

حقیقی چاہت اور دعائیہ چاہت میں فرق

 آڈیو سے مفہوم از: عبد الرحمن  اللہ اور اللہ کے بندے کی جو چاہت ہے یہ حقیقی چاہت ہے۔ یہ دعائیہ چاہت نہیں ہوتی کہ بس دعائیں مانگی جائیں کہ یا اللہ مجھے یہ کر دے، یا اللہ مجھے وہ بنا دے۔ یہ وہ چاہت بھی نہیں ہوتی کہ عبادت کے لیے دعا کی جائے کہ یا اللہ مجھے اپنا عابد بنا لے، مجھے تحجد گزار بنا لے۔ یہاں جو دعا ہوتی ہے، وہ کچھ اور ہوتی ہے۔ وہ دعا یہ ہوتی ہے: اَفَلَا اَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا کہ اللہ کی اس خاص مہربانی پر میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ یہ چاہت اپنی نہیں ہوتی، یہ حقیقی چاہت ہوتی ہے۔  حقیقی چاہت میں میری جو دعا ہوتی ہے وہ دعائیہ چاہت ہے۔ وہ عبادت کی اگر چاہت ہے تو وہ دعائیہ  چاہت ہے۔ اللہ کا بندہ بننے کی چاہت  ہے تو بھی یہ دعائیہ چاہت ہے۔ یہی وہ دعائی چاہت ہے۔  پھر ایک اللہ کی چاہت ہوتی ہے۔ جسے حقیقی چاہت ہم کہتے ہیں۔ آپ کو پتا ہے وہ حقیقی چاہت کیا ہے؟  حقیقی چاہت وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ بس یہ بات اگر دل میں بیٹھ جائے نا، تو سب کچھ سیدھا ہو جاتا ہے۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے ہیں، وہ حقیقی چاہت ہے۔ جو سائیں جی چاہتے ہیں، وہ حقیقی چا...