نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

لیلتہ القدر کی تلاش کیسے ؟ (اعتکاف بیانات : بیان نمبر ۳ )

 بعد نماز فجر 

اعتکاف بیانات : بیان نمبر ۳ 

بتاریخ: ۱۱ مارچ ۲۰۲۶

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم، اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ آمنتُ باللہ، صدق اللہ العظیم۔

رمضان المبارک میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ مسلمان مومن کی بابت جو بڑا اعلان فرماتا ہے، وہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہے؛ جس میں وہ باتیں ہیں جو کسی اور دن، رات یا مہینے میں اللہ سبحان وتعالیٰ نے  نہیں بتائیں۔ یہ مومن کی معراج ہے، جیسا کہ فرمایا گیا کہ جو اس دنیا میں آنکھ رکھتا ہے وہ قیامت والے دن بھی آنکھ والا ہوگا، اور جو یہاں اندھا رہا وہ وہاں بھی اندھا ہی اٹھایا جائے گا۔

ہزار مہینوں سے افضل  اس کی ایک رات "لیلۃ القدر" ہے۔ لیلتہ القدر عام رات نہیں ہے کہ وہ عام رات کی طرح وقت رکھتی ہو۔ عام رات کی طرح اس کوئی بھی چیز موجود نہیں ہے۔ اور اس رات کے بارے میں فرمایا کہ اسے تلاش کرو۔ 

جب ایک مزدور اپنی مزدوری ختم کرتا ہے تو اسے اجرت دی جاتی ہے۔ جب آخری عشرہ پورا ہوتا ہے تو ایک طرف لیلۃ القدر کی رات ہے جو "حتیٰ مطلع الفجر" فجر تک رہتی ہے، اور دوسری طرف "مطلعِ دیدار" یعنی رب العالمین کی ملاقات ہے، جو دس دن کے اعتکاف کے بعد مومن کو بطور اجرت دی جاتی ہے۔ جو دنیا میں یہ ملاقات  رکھتا ہے، وہی وہاں اللہ کے حضور اصل ملاقات پائے گا۔ یہاں کی ملاقات تجلی ہے اور وہاں کی ملاقات مومن کو یقین ہے۔ کہ اس طرح ملاقات ہو گی جس طرح ملاقات ہوتی ہے۔ 

آخری عشرے میں اس قدر والی رات کو تلاش کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ چھپی ہوئی ہے۔ اگر چھپی نا ہوتی تو تلاش کرنے کا نا کہا جاتا۔  پہلی بات یہ جان لیں کہ لیلۃ القدر طاق راتوں میں سے ایک رات ہے۔ پہلے بھی جو طاق راتیں آئی ہیں وہ لیتہ القدر ہیں، ان میں یہ بھی ایک رات لیلتہ القدر ہے جسے تلاش کرنا ہے۔ ہر ایک نے اپنی آنکھوں سے تلاش کیا ہے، جیسی کسی کی بینائی ہے ویسا اس نے دیکھا ہے۔ کسی کو چاند نظر آ گیا اور کسی کو چاند نظر نہیں آیا۔ یہ نظروں کی بات ہے۔ بات یہ ہے کہ تلاش کرنے کا حکم آیا ہے۔ اور جنہوں نے یہ رات تلاش کر لی ہے انہوں نے کوئی کنجوسی نہیں کی۔ قرآن پاک میں ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ غیب کی باتیں بتانے میں ذرہ کنجوسی نہین کرتے۔ آپ کا ایمان ہونا چاہئے اللہ پر۔ اللہ ہمیں یہ سارا کچھ اس لیے دیتا ہے کہ ہمیں مل جائے۔ جب اللہ پروردگار ہمیں یہ سارا کچھ دیتا ہے تو بھلا پھر ہمیں ملے گا کیسے نہیں؟ 

یہ جو تلاش کرو کا کہا گیا ہے تو اس میں بات یہ ہے کہ کوئی تلاش کرتا ہے اسے پھر بھی نہیں ملتی۔ اور کوئی تلاش کر لیتا ہے اسے تو مل گئی۔ جسے تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتی وہ کدھر جائے گا؟ اب اللہ اسے بھی دے دیتا ہے۔ کیونکہ وہ رات تو آتی ہی ہے۔ وہ روزہ بھی آتا ہے۔ کونسا روزہ؟ آخری عشرے کا۔ جب اسے روزے مل رہے ہیں تو قسم خدا کی وہ رات بھی مل رہی ہے۔ جسے پتا ہے وہ آپ کو بتا دے گا آپ کو بھی پتا ہو جائے گا۔ 

جو رات لیلتہ القدر ہے نا "لیلتہ القدر(قدر والی رات)" وہ یہ راتیں نہیں ہیں۔ کہ آپ ان کو کہیں کہ یہ رات ہے۔ لیس کمثل شئی۔ اگر یہ راتیں ہوتیں، تو اللہ اس کا نام لیلتہ القدر کیوں فرماتا۔ نہیں یہ رات ہرگز نہیں ہے۔ یہ آخری عشرے کی رات ہرگز نہیں ہے۔ چھپی ہوئی ہے۔ اسے تلاش کرنا پڑتا ہے۔ پتا نہیں کہاں چھپ گئی ہے۔ جاننے والا جو جانتا ہے وہ بتاتا ہے کہ دن میں چھپی ہوئی ہے۔ رات میں ہوتی تو ہر ایک کو مل جائے گی رات۔ رات میں نہیں ہے وہ دن میں چھپی ہوئی ہے۔ یہاں کا دن جو ہے جس میں وہ آ کر چھپ گئی ہے اسے دن نہیں رہنے دیا؛ اسے ملاقات کا دن بنا دیا۔ اسے عید دید کا دن بنا دیا اور وہاں رات کو چھپا کہ اللہ سبحان وتعالیٰ نے دن دیکھا دیا۔ کہ دن کو روزہ دیا۔ رات کو تو روزہ نہیں ہوتا۔ مغرب پر روزہ کھول دیا جاتا ہے اور فجر سے پہلے رات کو روزہ رکھ لیا جاتا ہے۔ دونوں وقت رات میں روزہ تو نہیں ہے۔ روزہ تو دن ہے۔ تو وہ روزے کی رات ہو گی کہ روزہ کھولنے کی رات ہو گی۔ فرشتے بھی آتے ہیں اس میں، حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی آتے ہیں اس میں، قرآن بھی نازل ہوتا ہے اس میں، اللہ بھی آتا ہے۔ یہ سارے جب آئیں گے تو روزے میں آئیں گے یا روزہ کھولنے آئیں گے؟ 

جب اللہ ہمارے ساتھ دن میں ہوتا ہے تو جو اللہ نے روزہ رکھا ہوا ہوتا ہے وہی ہم نے بھی رکھا ہوتا ہے۔ روزے کا احترام ہم بھی کرتے ہیں کیونکہ اللہ نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ اللہ نہیں کھاتا پیتا۔ اور ہم بھی احترام کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کے مہینے میں مسلمانوں نے روزہ رکھا ہوا ہوتا ہے۔ ہم نے اگر نہیں بھی رکھا ہوتا تو بھی ہم احترام کرتے ہیں ہم ان کے سامنے نہیں کھاتے پیتے۔ 

اب جب اللہ بھی آیا ہے، اس کے فرشتے بھی آئے ہیں، کہ تتنرل الملائیکہ اور روح الامین (جبرائیلؑ) بھی آئے ہیں، تو یہ سب "حتیٰ مطلع الفجر" تک ہوتا ہے۔ جب آپ رات کو اسے تلاش کرتے ہیں تو وہ کہاں چھپ گئی ہے؟ وہ دن میں چھپ گئی ہے اور فجر (تڑکے) تک رہتی ہے۔ یہ "لیلۃ القدر" تو دن میں ہے۔ دن میں روزہ ہے، اللہ ہے، فرشتے ہیں، قرآن ہے اور نبی ﷺ ہیں۔ سب نے دن میں روزہ رکھا ہوا ہے۔ آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ روزہ طاق ہے۔ جبکہ جب ہم روزہ کھولتے ہیں یا رکھتے ہیں تو یہ "جفت" (دو عمل) ہے، اور یہ رات کو ہوتا ہے۔ جب رات ہوتی ہے تو روزہ کھول دیا جاتا ہے اور جب رات ہوتی ہے فجر سے پہلے تو روزہ رکھ لیا۔ یہ تو جوڑا ہے۔ رکھنا اور کھولنا یہ تو رات میں ہوتا ہے۔ جبکہ دن میں ایک ہی چیز ہوتی ہے "روزہ" یہ طاق ہے۔ 

طاق میں تلاش کرو رات کو، یہ فرمایا ہے۔ طاق راتیں ہیں تو راتوں میں تو رات کو تلاش نہیں نا کیا جا سکتا، وہاں تو موجود ہوتی اگر ہوتی۔ طاق راتوں میں تلاش کرو۔ یہ رات بھی خصوصی ہے اور اس کا طاق ہونا بھی خصوصی ہے۔ اب یہ تلاش ہو گئی ہے۔ کہ اللہ سبحان وتعالیٰ نے یہ رات اتنے وقت کی نہیں بنائی۔ بلکہ پورا آخری عشرہ روزہ جب ہم رکھتے ہیں یہ پورے کا پورہ یہ طاق ہے اور رات جو لیلتہ القدر ہے وہ دن میں آئی ہوئی ہے۔ دید میں آئی ہوئی ہے۔ جسے یہ رات ملتی ہے اسے ہزار مہینوں سے افضل جو ہے اسے اللہ سبحان وتعالیٰ کے نبیﷺ نے جو فرمایا ہے وہ ملتا ہے۔ 

جب کوئی اس روزے میں اپنے ماں باپ کی زیارت کرتا ہے تو یہ حج مبرور بھی ہے اور یہ روزے میں بہت بڑی بزرگی بھی ہے کہ اللہ سبحان وتعالیٰ کو راضی کرنے کا یہ ایسا نادر موقع ہوتا ہے کہ جب کوئی ماں باپ کو اس مہینے میں راضی کرتا ہے تو اسے اللہ سبحان وتعالیٰ وہ عطاء دیتا ہے جو اپنے نبی رسول علیہ السلام کو راضی کرنے میں دیتا ہے اور جو نبی رسول علیہ السلام کو اس مہینے میں راضی کرتا ہے اسے اللہ سبحان وتعالیٰ اپنی رضا دے دیتا ہے جو فرمایا کہ حدیثِ پاک ہے: "من رانی فقد رای الحق" کہ جو مجھے دیکھے گا آ کر وہ اللہ سبحان وتعالیٰ کو دیکھے گا۔ یہ صحابہ اہل بیت کو بتایا جا رہا ہے۔ 

عام دنوں میں جو مجھے دیکھے گا اس نے حقیقت میں اب اللہ کو دیکھنا ہے۔ یہ کونسا دیکھنا ہے؟ یہ وہ ہے جس میں فرمایا کہ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہ مومنین کو یہ یقین حاصل ہے کہ وہ اللہ کی ملاقات پائیں گے اور اللہ کی طرف واپس لوٹیں گے۔ یہ من رانی فقد رای الحق ، حکمی ہے۔ کہ جو مجھ سے ملے گا آ کر وہ اللہ کی ملاقات پائے گا۔ 

ماں باپ کے بارے میں فرمایا کہ جو ماں باپ کی محبت سے زیارت کرے گا حج مبرور کا ثواب ہو گا۔ فرمایا جو میرے نبیﷺ کے نائب کی زیارت کرے گا۔ کہ ارشاد پاک ہے "مَنْ زَارَهُ فَكَأَنَّمَا زَارَنِي" (جس نے اس کی زیارت کی، اس نے گویا میری ہی زیارت کی)۔ اور یہ بھی کہ "مَنْ زَارَ عَالِمًا فَكَأَنَّمَا زَارَنِي، وَمَنْ صَافَحَ عَالِمًا فَكَأَنَّمَا صَافَحَنِي

"مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ"

(جس نے مجھے دیکھا، اس نے حقیقت میں 'حق' کو دیکھا۔)

یہاں تجلی زیارت ہے۔ کہ جو میری تجلی (زیارت) پائے گا وہ اللہ کی تجلی پائے گا۔ یہ رمضان المبارک میں ہے۔ رمضان المبارک میں وہ اپنے اللہ کا مشاہدہ پائے گا۔ اب کس میں یہ مشاہدہ پائے گا؟ طاق رات جو ہے وہ رمضان المبارک کی جو طاق رات ہے اس میں تلاش کرو۔ اس میں وہ چیز ہے جو ہزار مہینوں میں موجود نہیں ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا وہاں اللہ موجود نہیں ہے؟ کیا اللہ کا نبی موجود نہیں ہے؟ کیا قرآن موجود نہیں ہے؟ کیا دین موجود نہیں ہے؟ کیا ان میں رمضان موجود نہیں ہے؟ کیا ان میں روزے موجود نہیں ہیں؟ ڈھونڈو نا ایسی کونسی بات ہے جو ان ہزار مہینوں میں نہیں ہے اور لیلتہ القدر میں وہ ہے جسے ڈھونڈنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 

کون ڈھونڈے؟ کہ اب ہمیں نا فکر ہے، نا اللہ سے محبت رہ گئی، نا اللہ کے نبی سے محبت رہ گئی، آج کل تو اپنے عملوں سے محبت رہ گئی ہے کہ اپنے عمل ہمیں بڑا فائدہ دیتے نظر آتے ہیں، نہیں بھائی، ایسے نہیں بات بنتی، سنو اس میں کیا ہے؟ اس میں ایک چیز نہیں ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ملاقات نہیں ہے۔ یہ صرف لیلتہ القدر میں ہے۔ طاق رات کو ڈھونڈیں گے۔ آخری عشرے میں ہے۔ 

آخری عشرے میں کوئی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ یہ روزہ رکھتا ہے جو طاق روزہ ہے۔ جفت نہیں ، جفت روزہ رکھنا اور کھولنا ہے۔ یہ میرا اور آپ کا ہے۔ جبکہ وہ روزہ رکھتا ہے جو اللہ کا روزہ ہے، وہ روزہ رکھتا ہے جو نبی رسول علیہ السلام کا روزہ ہے۔ وہ روزہ رکھتا ہے جو آپ کے سائیں جی کا روزہ ہے۔ وہ روزہ رکھتا ہے جو آپ کے ماں باپ کا روزہ ہے۔ یہ سارے کا سارا وہ روزہ ہے۔ اور یہ ساری کی ساری وہ طاق رات ہے جسے لیلتہ القدر کہا جاتا ہے۔ جس میں سارا کچھ پہلا بھی ہے اور اس میں ایک نئی چیز اور بھی ہے جو اللہ سبحان وتعالیٰ کا مشاہدہ تجلی ہے۔ 

اور یہ تجلی وہ ملاقات کی حقیقت ہے اسے وہ ملتی ہے کہ یہاں اعتکاف میں بیٹھا ہے۔ یہ اعتکاف میں بیٹھنے والے کو یہ جو دس دن ملے ہیں یہ دس دن عید بھی ہیں اور یہ دس راتیں جو ہیں یہ طاق رات بھی ہیں۔ یہ ہے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ ایک تو ہم نے قرآن نازل کیا اور ایک یہ لیلتہ القدر میں نازل کیا گیا۔ 

اب لیلتہ القدر کے بارے فرمایا کہ وہ چھپی ہوئی ہے اسے تلاش کرو۔ وہ کہاں چھپی ہوئی ہے؟ وہ دن میں چھپی ہوئی ہے۔ وہ دن کے روزے میں چھپی ہوئی ہے۔ وہ آخری عشرے میں چھپی ہوئی ہے۔ کہ فرمایا جو آخری عشرے کی طاق راتیں ہیں ان میں ڈھونڈو اسے۔ وہ عام رات کدھر ہے؟ وہ رات تو دن ہو گیا ہے اور دن جو ہے وہ عید ہو گئی ہے۔ 

قسمت والا وہ ہے جسے یہ رات ملی ہے کہ جس میں سارا کچھ پہلا تو ہے ہی ہے لیکن نئی چیز اس میں یہ ہے کہ جسے یہ رات ملتی ہے، جسے لیلتہ القدر ملتی ہے، جسے یہ رمضان کا آخری عشرہ ملتا ہے ، جسے یہ دن عید ملتا ہے ، اس کے لیے یہ اللہ کی تجلی ، اللہ کی ملاقات اسے عطاء ہوتی ہے۔ کسی سے نا بھی ڈھونڈی جائے، کہ جیسے کسی کو اگر چاند نا بھی نظر آئے تو بھی کیا ہو گیا؟ جس نے عید دید بھیجی ہے، جس نے آخری عشرہ بھیجا ہے، جس نے رمضان دیا ہے، جس نے رحمت اسے دیا ہے، جس نے مغفرت اسے بنایا ہے، اسے عافیت بنایا ہے۔ مومن وہ کام کر رہا ہے جو اللہ کا حکم پورہ کرنے میں ہوتا ہے۔ 

کیا نہیں اسے ملا؟ جسے دینے والا اللہ ملا ہو، جسے دینا والا نبی رسول ملا ہو، جسے دینے والا اپنے وقت کا امام ملا ہو، جسے دینے والا ماں باپ ملا ہو، وہ راضی ہو رہے ہوں اسے اور کیا چاہئے۔ تیری مت ماری گئی ہے تو اپنی باتیں لے کر یہاں آ گیا ہے۔ یہاں اپنی کوئی بات نہیں کرنی۔ یہ چار یار ہیں۔ انہوں نے ہی ہمیں سارا کچھ دیا ہے اور یہ چار یار جو ہیں ان کی حقیقت طاق ہے جفت نہیں ہے۔ سب نے ایک ہی روزہ رکھا ہوا ہے۔ جو اللہ نے رکھا ہوا ہے وہی نبی رسول علیہ السلام نے رکھا ہوا ہے۔ جو نبی رسول علیہ السلام نے رکھا ہے وہی آپ کے نائب نے رکھا ہے۔ کسی کو کیا پتا نائب رسول علیہ السلام کون ہیں؟ کسی کو کیا پتا اللہ کا نبی رسول کون ہیں؟ ہم تو صرف ایمان لے کر آئے ہیں۔ پتا تو اللہ کو اپنے نبی کا ہے۔ اور نبی رسول کو اپنے اللہ کا ہے۔ پتا تو نائب رسول علیہ السلام کو اپنے امام کا ہے۔ اور پتا تو امام کو اپنے نائب کا ہے۔ ایسے ہی جیسے ماں باپ کو اپنی اولاد کا پتا ہے اور اولاد کو اپنے ماں باپ کا پتا ہے۔ یہ نا بھی پتا کرے ان کا پتا تو پکا سچا ہے۔ کسی کو کیا پتا ان باتوں کا۔ اور یہ کہتا ہے مجھے ان باتوں کا پتا چل جائے۔ باتوں کا تو نہیں پتا چل سکتا۔ ہاں ساتھ ہو سکتا ہے۔ 

کوئی کہے کہ میرے پاس اللہ کا علم آ جائے، اللہ کے نبی کا علم آ جائے، سائیں جی کا علم آ جائے، امی ابا کا علم آ جائے۔ وہ تو پی ایچ ڈی ہوئے ہیں، تو پی ایچ ڈی ہو گا تو تجھے بھی علم ہو جائے گا ویسے علم نہیں ہوتا ہاں تو ان کے ساتھ ضرور ہو سکتا ہے۔ جب تو ساتھ ہو جائے گا یہ تیری محبت ہو گی۔ ان کا ایمان ان کے پاس بھی رہے گا اور تیرے پاس ایمان کی وہ حقیقت آ جائے گی جو اللہ دیتا ہے۔ 

ماں باپ کے فعل سے اولاد ہو جاتی ہے وہی فعل جب اولاد میں آ جاتا ہے وہ ماں باپ اپنی اولاد کے تو ہو جاتے ہیں لیکن اپنے ماں باپ کے ماں باپ نہیں ہو جاتے۔ یہ بات اگر کسی کو پہلے پتا ہے تو وہ سمجھ جائے گا دوسرا اس بات کو نہیں سمجھ سکے گا۔ وہ بات یہ ہے کہ جب اللہ سبحان وتعالیٰ کا فعل اللہ کے بندے میں آ جاتا ہے تو اللہ کے بندے کا عمل اللہ کا فعل ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ نہیں ہو جاتا۔ ایسے ہی جیسے ماں باپ کا فعل جب کسی میں آ جاتا ہے تو وہ امی ابا ہو جاتا ہے لیکن اپنے ہی ماں باپ کا ماں باپ نہیں ہو جاتا۔ 

اگر کسی کو اس بات کی تعلیم ہوئی ہے کہ اللہ کے بندے نے اس کی تعلیم کی ہوئی ہے کہ کیسے کوئی اللہ تو نہیں ہوتا اللہ کا بندہ ہوتا ہے وہ جب اللہ کا بندہ ہو جاتا ہے تو جو اللہ ہوتا ہے سارا ہی اللہ کا بندہ ہو جاتا ہے۔ یہ تو ویسے ہی ہوتا ہے جیسے اللہ کے بندے نے کسی کو اللہ کا بندہ کر دیا ہوتا ہے۔  امی ابا سے وہ اولاد ہو گیا ہوتا ہے، اور اولاد سے وہ امی ابا ہو گیا ہوتا ہے یہ ویسے ہی ہوتا ہے۔ بتانے سے سنانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ 

آئے اللہ کا شکر ادا کریں۔ کہ ہمیں اللہ نے رمضان المبارک دیا ہے۔ رمضان المبارک کی رات ہمیں دی ہے۔ لیلتہ القدر ہمیں دیا ہے۔ اور رمضان المبارک کا روزہ دن دیا ہے۔ دن ہے روزہ۔ جس نے دن میں روزہ نہیں رکھا، رات کو روزہ نہیں ہوتا۔ رات کو روزہ رکھا جاتا ہے، رات کو روزہ کھولا جاتا ہے۔ رات کو میرا عمل ہوتا ہے۔ نا ہی لیلتہ القدر ہوتی ہے نا روزہ ہوتا ہے۔ رات میں نہیں ہے لیلتہ القدر۔ ہمیں یہ بتایا ہے کہ رات جب وہ آئے گی تو روزہ رکھ لینا۔ لیلتہ القدر کو روزہ رکھ لینا۔ وہ رات ہم روزہ رکھنےو الی کہیں گے۔ یہ جنتی بھی طاق راتیں آتی ہیں یہ روزہ رکھنے کے لیے آئی ہیں۔ یہ لیلتہ القدر نہیں ہے۔ لیلتہ القدر تلاش کرنی ہے وہ دن میں جا کر چھپی ہوئی ہے۔ 

یہ دن جو آپ کو مل رہا ہے یہ آپ اللہ کی ملاقات میں ہیں۔ آپ قسمت والے ہیں۔ ایسے ہی نہیں عاجز نے آپ کو کہا کہ جب رمضان میں اعتکاف کرواؤں گا تو ایک سال کا آپ کا اعتکاف پورہ ہو جائے گا، یہ تو عاجز نے ایک سال کہا ہے، آپ کی جان ہم نے نہیں چھوڑنی کیونکہ محبت میں جان نا اللہ کی ہم چھوڑنے والے ہیں نا اللہ ہماری چھوڑنے والے ہیں۔ اس لیے سال کہا ہے ورنہ اگر قیامت تک بھی کہہ دوں تو اللہ جانتا ہے رمضان ایسا ہی ہے۔ ورنہ ایک بار جس نے ایمان سے پڑھ لیا لا الٰہ الا اللہ تو وہ دخل الجنتہ ہے۔ یہ جو باقی نو سو سال کی بھی زندگی میں وہ پڑھتا ہی رہتا ہے یہ تو اس کے ایمان کا ثبوت ہے کہ اسے اللہ نے محبت میں پڑھوایا ہے۔ اللہ کا نہیں پتا لگتا۔ لیکن اللہ پوچھتا ہے۔ سوال پوچھتا ہے پھر جواب دیتا ہے تو پتا لگ جاتا ہے۔ 

اللہ فرشتوں سے پوچھتا ہے: "وہ بیٹھے کیا کر رہے ہیں؟" فرشتے کہتے ہیں: "اللہ! وہ اعتکاف کر رہے ہیں، روزہ رکھ رہے ہیں اور سائیں جی کے بیان سن رہے ہیں۔" اللہ پوچھتا ہے: "وہ مانگ کیا رہے ہیں؟" اللہ کو سب پتہ ہے، مگر جب وہ بتاتا ہے کہ میں نے ان کو وہ سب دے دیا جو وہ سوچ بھی نہیں سکتے، تب ہمیں پتہ چلتا ہے۔ یقین جان لیں کہ کل کی ملاقات اس لیے ہوگی کہ آج ملاقات ہوگئی ہے؛ کل آپ اس لیے آنکھوں والے اٹھیں گے کیونکہ آج آنکھوں والے بنائے گئے ہیں۔ 

ورنہ فرمایا گیا ہے کہ 

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى(124) قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا(125)

جو ذکر سے منہ موڑے گا وہ قیامت کے دن اندھا اٹھایا جائے گا، اور اللہ فرمائے گا کہ میری آیتیں اور میرے حکم تیرے پاس آئے تھے مگر تو نے انہیں بھلا دیا اور دھیان نہ دیا کہ تجھے کون پکار رہا ہے؛ تیرے ماں باپ، سائیں جی یا اللہ کا نبی ﷺ یا عام دنیا دار دنیا کے فلاسفر انجینئیر؟ جس نے دھیان دے دیا وہ ذاکر، فکر والا اور شعور والا ہوگیا۔ 

عقل سمجھ شعور؛ دل دماغ روح؛ سب سے مل کر تو ؛ کر اللہ اللہ اللہ

یہی تو وہ اللہ اللہ ہے کہ 

جب بال بال سے "اللہ اللہ" نکلتا ہے، تو یہی وہ آواز ہے جو اللہ سنتا ہے اور کہتا ہے کہ "لبئیک یا عبدی"۔

یہ سب محبت کی بات ہے، اور جنہیں اللہ محبت دے دیتا ہے وہ اپنے اللہ کو کب چھوڑتے ہیں اور اللہ انہیں کب چھوڑتا ہے۔ قسم خدا کی! یہ اللہ اور اس کے نبی ﷺ کی محبت نے ہمیں پکڑا ہوا ہے، اگر یہ محبت نا ہوتی تو ہم کیسے ’من احب شیئا اکثر ذکرہ‘ ورنہ ہم اس کے ذکر میں کیسے لگے رہتے۔

 آئیے اس رات کو تلاش کریں؛ یہ رات میں نہیں ملے گی کیونکہ اسے اللہ نے دن بنا دیا ہے۔ رات تو اندھیری ہوتی ہے، جبکہ لیلۃ القدر اندھیری کب ہے؟ لیلۃ القدر میں تو اللہ کا نور، قرآن، جبرائیل علیہ السلام اور تمام فرشتے نازل ہو رہے ہیں۔ 

ایک چاند چھوٹا سا نکلا ہو ساری زمین روشن ہو جاتی ہے پھر یہاں کی بات کون کر سکتا ہے جہاں چاند ہی کیا چاند چڑھانے والے خود آئے ہوئے ہیں۔  تو وہاں کی بات کون کر سکتا ہے۔ اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں یہ موقع دیا۔ انشاء اللہ، مزید باتیں ہوتی رہیں گی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ سے مانگنا اور اللہ سے ہی لینا

بیان بعد نمازِ عشاء — 24 دسمبر 2025 ارشادِ پاک ہے کہ منافق وہ لوگ ہیں جو اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں: یخادعون اللہ والذین آمنوا ۔ یعنی وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں، لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ کوئی اللہ کو دھوکہ دے سکتا ہو یا کوئی اللہ کا دوست ہو، اللہ کا ساتھی ہو، اور کوئی اسے دھوکہ دینے کے قابل ہو۔  دراصل یہ منافقین اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مانگتے تو اللہ سے ہیں لیکن لیتے کسی اور سے ہیں۔

اللہ کا دوست یا اللہ کا بندہ

  بیان بعد نمازِ عشاء مورخہ 23 دسمبر  2025 مفہوم از: عبدالرحمان اللہ کی چاہت رکھنے والا انسان دو حالوں میں ہوتا ہے: یا تو وہ اللہ کا دوست بن جاتا ہے، یا پھر اس راستے پر چلتے چلتے اللہ کا بندہ بن جاتا ہے۔ اللہ کا دوست، یعنی اللہ کا ولی، وہ ہوتا ہے جو اپنے اللہ کو اپنا دوست بناتا ہے اوروہ سارے کام کرتا ہے جس میں اللہ سبحان و تعالیٰ اسے اپنا دوست بنا لیتا  ہے۔ یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ وہ اللہ کو دوست بناتا ہےاور اللہ اس کا دوست ہو جاتا ہے ۔

حقیقی چاہت اور دعائیہ چاہت میں فرق

 آڈیو سے مفہوم از: عبد الرحمن  اللہ اور اللہ کے بندے کی جو چاہت ہے یہ حقیقی چاہت ہے۔ یہ دعائیہ چاہت نہیں ہوتی کہ بس دعائیں مانگی جائیں کہ یا اللہ مجھے یہ کر دے، یا اللہ مجھے وہ بنا دے۔ یہ وہ چاہت بھی نہیں ہوتی کہ عبادت کے لیے دعا کی جائے کہ یا اللہ مجھے اپنا عابد بنا لے، مجھے تحجد گزار بنا لے۔ یہاں جو دعا ہوتی ہے، وہ کچھ اور ہوتی ہے۔ وہ دعا یہ ہوتی ہے: اَفَلَا اَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا کہ اللہ کی اس خاص مہربانی پر میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ یہ چاہت اپنی نہیں ہوتی، یہ حقیقی چاہت ہوتی ہے۔  حقیقی چاہت میں میری جو دعا ہوتی ہے وہ دعائیہ چاہت ہے۔ وہ عبادت کی اگر چاہت ہے تو وہ دعائیہ  چاہت ہے۔ اللہ کا بندہ بننے کی چاہت  ہے تو بھی یہ دعائیہ چاہت ہے۔ یہی وہ دعائی چاہت ہے۔  پھر ایک اللہ کی چاہت ہوتی ہے۔ جسے حقیقی چاہت ہم کہتے ہیں۔ آپ کو پتا ہے وہ حقیقی چاہت کیا ہے؟  حقیقی چاہت وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ بس یہ بات اگر دل میں بیٹھ جائے نا، تو سب کچھ سیدھا ہو جاتا ہے۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے ہیں، وہ حقیقی چاہت ہے۔ جو سائیں جی چاہتے ہیں، وہ حقیقی چا...