*متقی کا روزہ!*
*مفہوم از: عبدالرحمان عاجز*
*بعد نماز فجر: بیان دوئمٌ*
*11-march-2026*
آخری عشرے میں دو باتیں ہیں جو آپ کو اور ہمیں وہ روزہ دیتی ہیں جو اللہ کا، نبی ﷺ اور ہر ایک کے اپنے اپنے سائیں جی کا روزہ ہے۔ "اپنا اللہ" یا "اپنا نبی ﷺ" سے مراد یہ ہے کہ جو جتنا اپنے اللہ کو جانتا ہے، اس کے لیے اس کا اللہ اتنا ہی (قریب) ہوتا ہے۔
جب کوئی مرید رمضان مبارک میں اپنے سائیں جی کی زیارت کرتا ہے، تو وہ حقیقت میں نبی ﷺ ہی کی زیارت ہوتی ہے؛ اور جب کوئی اپنی پہچان میں نبی ﷺ کی زیارت کرتا ہے، تو وہ اللہ پروردگار کی تجلی کی زیارت ہوتی ہے۔ یہ دو کام کرنے سے آپ کو روزے کی حقیقت حاصل ہو جائے گی:
۱۔ سائیں جی کی طرح روزہ رکھو: آپ کہیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ جیسے وہ بتاتے ہیں، ویسے روزہ رکھو۔ یہ وہ بات ہے جس سے آپ کا روزہ اللہ کے نبی ﷺ کے روزے کی طرح ہو جائے گا۔
۲۔ سائیں جی کے بتائے ہوئے طریقے پر چلو: اس آخری عشرے میں وہ روزہ رکھ لو جو سائیں جی بتاتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ اللہ کا روزہ ہے، نبی ﷺ کا روزہ ہے اور خود سائیں جی کا روزہ ہے۔ اس طریقے پر روزہ رکھنا روزے کا بھی ادب ہے اور سائیں جی کا بھی۔
سائیں جی جو بتاتے ہیں، وہ یہ ہے کہ روزے میں نہ کھانا ہے، نہ پینا ہے اور نہ ہی مباشرت کرنی ہے۔ مزید یہ کہ روزے میں خواہش کی پیروی نہیں کرنی؛ بلکہ ایسے رہنا ہے جیسے ہم (دنیاوی طور پر) مر گئے ہوں اور ہم میں کوئی خواہش باقی ہی نہیں رہی۔ بس یہی "روزہ" ہے۔ جو سائیں جی بتاتے ہیں، ویسے آپ روزہ رکھ لیں تو یہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا سائیں جی کا اپنا روزہ ہے۔ آپ سائیں جی کا روزہ رکھ کے دیکھ لیں، یہ خود بخود نبی ﷺ کا روزہ بن جائے گا، اور نبی ﷺ کا روزہ حقیقت میں اللہ کا روزہ ہے۔ جب یہ مقام مل جائے تو پھر لیلۃ القدر، آخری عشرے کا روزہ اور عید کی حقیقت خود بخود سامنے آ جاتی ہے۔
اللہ پاک ہمیں کامیاب کرے۔ آپ لوگ (عبادت میں) تھک گئے ہوں گے؛ مجھے پتا ہے کہ میں خود بھی کتنا تھک جاتا ہوں، لیکن اس راستے میں تھکاوٹ کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔ ہم نے آج تک ان تھکاوٹوں کو کبھی مسئلہ نہیں بنایا، اور انشاء اللہ تعالیٰ آپ بھی محبتوں میں اسے مسئلہ نہیں بنائیں گے۔
آج جو بات میں آپ کو بتانے لگا ہوں، وہ یہ ہے کہ دیکھ لینا، ایک دن آئے گا جب اللہ ہمیں اپنے ساتھ ہی رکھ لے گا۔ آج آپ جتنا اپنے سائیں جی اور اپنے ماں باپ کے ساتھ (قربت میں) رہ سکتے ہیں، رہ لیں۔ ہم ان جیسا علم اور ایمان تو نہیں پا سکتے، لیکن اگر آپ ان کے ساتھ محبت میں جڑ جائیں، تو آپ کا عمل ان کے فعل میں بدل جائے گا۔ یہ وہی بات ہے کہ کنکریاں نبی ﷺ نے ماری تھیں، لیکن قرآن کہتا ہے کہ وہ کنکریاں اللہ نے ماری تھیں۔
ساتھ رہنے والوں کی تاثیر یہ ہے کہ اللہ والے اپنے ساتھ رہنے والوں کو بھی اللہ والا بنا دیتے ہیں۔ جنہیں یہ "ساتھ" حاصل ہو جائے، وہ رفیق بن جاتے ہیں۔ اللہ ہمیں ان رفیقوں میں شامل کرے گا جو یہاں بھی یاروں کے رفیق تھے اور اپنے یار رفیقوں کے پاس ہی واپس چلے گئے۔
اس کی مثال ایسی ہے جیسے اولاد ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی ہوتی مگر وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی ہوتی ہے، پھر وہ دنیا میں آ جاتی ہے۔ ہم سب اللہ کے علم میں اپنی اپنی اصل (ماں باپ اور اسلاف) کے ساتھ ہی تھے۔ جب بندہ اللہ کے علم والے (اہلِ اللہ) کے ساتھ جڑ جاتا ہے، تو وہ پکا "اللہ کا بندہ" ہو جاتا ہے۔ بس یہی ساری بات ہے۔
*جزاک اللہ۔ السلام علیکم۔ٌ*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں