نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

فروری, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کیا میں دو ہو سکتا ہوں اگر نہیں تو پھر ایک سچ دو کیوں!

روزہ ۳ ماہ رمضان ۲۰۲۶ بعد نماز فجر تعلیمی بیان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جو ہمارا دل ہے یہ سچ سے سیدھا ہوتا ہے۔ جب تک یہ سیدھا نہ ہو لے، یہ دل سلیم نہیں ہو سکتا۔ جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور جب بندہ حاضر ہوتا ہے اور اللہ اکبر کہہ کر نماز میں داخل ہوتا ہے، تو اس کا منہ قبلہ کی طرف سیدھا ہونے پر اس کی نماز صحیح ہوتی ہے۔ اگر اس کا منہ قبلہ کی طرف نہ ہو( جو کہ فرض ہے)، تو اس کی نماز درست نہیں ہوتی اور یہ بندہ نماز پڑھ کر بھی بے نمازی ہی رہ جاتا ہے۔ 

نیکی سے نا روکو

 السلام علیکم ورحمتہ اللہ! ۷ رمضان المبارک ۲۰۲۶(زندگی بخیر آڈیو میسج)  اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن مجید میں اپنے بندوں کے لئے فرماتے ہیں: يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ ، کہ وہ اللہ کی راہ میں نیکیاں بڑی سرعت سے یعنی بھاگ بھاگ کرکرتے ہیں۔  یہ بھی ارشاد پاک ہے کہ جلدی شیطان کی طرف سے ہے، اور آہستگی، سکون اور آرام کے ساتھ نیکی کرنا مومن کا شیوہ ہے۔ اب یہاں يُسَارِعُونَ میں جس جلدی کو نیکی بتایا گیا ہے، اس میں اور شیطانی جلدی میں فرق یہ ہے کہ نیکی کی جلدی وہ ہے جس کا پہلے سے پتہ ہوتا ہے، جبکہ وہ جلدی جس کا علم نہ ہو اور صرف افراتفری ہو، وہ شیطان کی طرف سے ہے۔ نیکیاں بڑھ بڑھ کے اور جلدی کرنی چاہئیں کہ پتہ نہیں دوبارہ موقع ملے یا نہ ملے۔ اگر کوئی نیکی کر رہا ہو تو اسے نیکی سے منع نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ نیکی سے روکنا شیطان کا کام ہے۔ اللہ کے بندے کا کام تو نیکی کی دعوت دینا ہے۔ اب دعوت کے بارے میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر شخص اگر دعوت دے تو وہ “حکم کی دعوت” ہونی چاہیے۔ جبکہ امی، ابا حضور، سائیں جی، اللہ کے نبی ﷺ اور اللہ کی ذاتِ مبارکہ؛ یہ محبت بھری ہستیاں جن کی محبت، ذات، ...

حقیقی چاہت اور دعائیہ چاہت میں فرق

 آڈیو سے مفہوم از: عبد الرحمن  اللہ اور اللہ کے بندے کی جو چاہت ہے یہ حقیقی چاہت ہے۔ یہ دعائیہ چاہت نہیں ہوتی کہ بس دعائیں مانگی جائیں کہ یا اللہ مجھے یہ کر دے، یا اللہ مجھے وہ بنا دے۔ یہ وہ چاہت بھی نہیں ہوتی کہ عبادت کے لیے دعا کی جائے کہ یا اللہ مجھے اپنا عابد بنا لے، مجھے تحجد گزار بنا لے۔ یہاں جو دعا ہوتی ہے، وہ کچھ اور ہوتی ہے۔ وہ دعا یہ ہوتی ہے: اَفَلَا اَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا کہ اللہ کی اس خاص مہربانی پر میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ یہ چاہت اپنی نہیں ہوتی، یہ حقیقی چاہت ہوتی ہے۔  حقیقی چاہت میں میری جو دعا ہوتی ہے وہ دعائیہ چاہت ہے۔ وہ عبادت کی اگر چاہت ہے تو وہ دعائیہ  چاہت ہے۔ اللہ کا بندہ بننے کی چاہت  ہے تو بھی یہ دعائیہ چاہت ہے۔ یہی وہ دعائی چاہت ہے۔  پھر ایک اللہ کی چاہت ہوتی ہے۔ جسے حقیقی چاہت ہم کہتے ہیں۔ آپ کو پتا ہے وہ حقیقی چاہت کیا ہے؟  حقیقی چاہت وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ بس یہ بات اگر دل میں بیٹھ جائے نا، تو سب کچھ سیدھا ہو جاتا ہے۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے ہیں، وہ حقیقی چاہت ہے۔ جو سائیں جی چاہتے ہیں، وہ حقیقی چا...

تیرا اللہ، تیرا استاد اورتیرے ماںباپ کون؟

نوٹ: مندرجہ بالاآڈیو میں مندرجہ ذیل سوالات کا جواب دیا گیا ہے۔  ’نائبِ خلیفہ اعظم‘ سے کیا مراد ہے اور یہ منصب علم کی عطا سے کیسے جڑا ہوا ہے؟ والدین سے ملنے والی ’وجودی عطا‘ اور اللہ کے بندے (نبی ﷺ) سے ملنے والی ’علمی عطا‘ میں کیا فرق ہے؟ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ہر نعمت اور عطا کی تقسیم کے لیے کس ہستی کو منتخب فرمایا ہے؟ معلمِ مزکی کا سب سے پہلا اور بنیادی عملی کام (نفس کی تربیت کے حوالے سے) کیا ہوتا ہے؟ حلال کھانے اور حرام سے بچنے کا تعلق ’تزکیہِ نفس‘ سے کس طرح جڑا ہوا ہے؟ نفس ’مطمئنہ‘ کب ہوتا ہے اور دل کے ’سلیم‘ ہونے سے کیا مراد ہے؟ آیت وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِي کی روشنی میں دل میں ’روحِ محبت‘ پھونکنے کی حقیقت کیا ہے؟ نبی کریم ﷺ کے اس ارشادِ پاک کا کیا مطلب ہے کہ ’مجھے میرا اللہ کھلاتا اور پلاتا ہے‘؟ قرآن کی رو سے اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کو ’مردہ‘ کہنے سے کیوں منع کیا گیا اور ان کے رزق کی حقیقت کیا ہے؟ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرنے کا حقیقی اور عملی طریقہ کیا ہے؟ آیت  ورفعنا لک ذکرک کے تحت نبی ﷺ کا تعلیمی و روحانی فیض کب تک جاری رہنے والا ہے؟