بیان: استقبالیہ و مبارک باد (اعتکاف رمضان المبارک)
پروگرام کے مطابق، انشاء اللہ العزیز آپ کے ساتھ عشاء کے بعد بیٹھنا نصیب ہوگا۔ اللہ کے فضل و کرم سے یہ عاجز (ہمارے پیارے سائیں جی کریم) آپ کے پاس آپ کو مبارک باد دینے، ویلکم کرنے اور اللہ کی راہ میں آپ کے آنے کی خوشی کا اظہار کرنے کے لیے بیٹھا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں یہ موقع بخشا ہے۔
آپ نے اب اپنے آپ کو اپنے اللہ، اپنے نبی رسول علیہ السلام، اپنے سائیں جی اور اپنے ماں باپ کی رضا کے حصول کے لیے وقف کر دینا ہے۔ یہ دن آپ کے جنت میں بیٹھنے کے دن ہیں؛ یہ دن آپ کے نبی ﷺ اور اپنے سائیں جی کے ساتھ بیٹھنے کے ہیں۔ حقیقت، رحمت، محبت میں سیدنا آدم علیہ السلام اور اماں حواؑ تک، ان سب بزرگوں کے ساتھ بیٹھنے کے ہیں۔ یہ آپ کا اصلی گھر ہے جہاں آپ کو اللہ نے پہنچا دیا ہے۔ آج یہاں بیٹھ کر آپ نے ان ہستیوں کے ساتھ جو وقت گزارنا ہے، یہی باتیں آپ کو جنت میں آپس میں ملاقات دیں گی۔ یہ ملاقات جو آپ یہاں اپنے سائیں جی، اپنے نبی رسول ﷺ اور اپنے اللہ کے ساتھ جو کریں گے، یہی وہاں کی دائمی ملاقات بن کر ملے گی۔ اسے اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
جس طرح خلوت میں میاں بیوی کی ملاقات ہوتی ہے اور آنے والے دنوں میں وہ اولاد کے ماں اور باپ بنتے ہیں، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ملاقات کا اصل وسیلہ وہی ہستیاں ہوتی ہیں۔ انسان کو سب کچھ اللہ، اللہ کا نبی ﷺ اور ماں باپ سے، جنت کے حصول میں مل جاتا ہے۔ کہ میاں بیوی نے خلوت میں ملاقات کی ہوتی ہے اور آپ یہاں اعتکاف میں ان ہستیوں (اللہ اور رسول ﷺ) سے ملاقات کر رہے ہو؛ بس اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دیں۔
وقت ایسے گزر جاتا ہے کہ نو سو سال کی نوح علیہ السلام کی زندگی اور شیطان کی قیامت تک کی زندگی، پل بھر سے پہلے بیت جائے گی۔ شیطان کہے گا کہ یہ تو کل کی بات بھی نہیں تھی۔ یہ اتنی جلدی گزر گئی؟ اس لیے جتنی جلدی ہو سکے، جس نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیا، وہ کامیاب ہو گیا۔ خود کو حوالے کرنے سے اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی رحمت، اپنی ملاقات اور اپنی جنت دے گا۔ وہ پروردگار رحمت میں آپ کے ساتھ اٹھے بیٹھے گا، اور یہ رحمت دینے سے پہلے آپ کی مغفرت فرما دے گا۔ کلمہ پڑھنے سے بھی پہلے ہمیں کلمہ پڑھا دے گا اور اس سے قبل کے کوئی ہمین غسل دے اللہ ہمیں غسل کروا دے گا۔ جیسے مرنے سے پہلے اللہ کلمہ پڑھا دیتا ہے، ویسے ہی جیسے آج زندگی میں اللہ نے ہمیں کلمہ پڑھا دیا: "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ"۔
وہ میاں بیوی کی خلوت اولاد کی آمد کے لیے تھی، جبکہ یہ ظاہری جلوت اللہ، اللہ کے نبی ﷺ، اپنے سائیں جی اور اپنے ماں باپ کی رضا کے حصول کے ساتھ ہے۔ اس جلوت پر قربان جائیں! وہ خلوت تو اولاد کے حق میں رحمت ہوئی، جانے نوح علیہ السلام کے بیٹے نے وہ رحمت کیوں نہ لی اور لعنتی ہمیشہ کا ہو گیا۔ وہ تو نصیب کی بات ہے۔ یہ تو اسے ملتی ہے جس کے نصیب اچھے ہوں۔
آپ کو مبارک ہو اور اس عاجز کو بھی مبارک ہو کہ آج عاجز کے یار دوست عاجز کے ساتھ ہیں۔ آپ کو بھی مبارک ہو کہ آپ کے حقیقی یار دوست آج آپ کے ساتھ ہیں۔ سچی بات ہے، میں اپنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ عاجز اس قابل نہیں ہے، لی اللہ جانتا ہے کہ اس ناقابلوں کو اللہ نے اس قابل کیا ہے۔ میرا اللہ جانتا ہے میں آپ کو کیا بتاوؤں لیکن اس کی رحمت بڑی ہے جو آج آپ کو اللہ دے رہا ہے۔ اس کی مغفرت بڑی ہے جو آج اللہ آپ کو دے رہا ہے، اور اس کی عافیت بڑی ہے جو اللہ آج آپ کو دے رہا ہے۔
یہ سب کیسے ملتا ہے؟ آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ نیکی وہ نہیں جو ہم اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ یہ کبھی نہ سمجھنا کہ ہماری مرضی کی نیکی، نیکی ہے۔ بلکہ جو اللہ، اللہ کا نبی ﷺ، سائیں جی اور ماں باپ کہیں، وہ نیکی ہے۔ اپنی مرضی کی "نیکیاں" کرنے والے تو (شیطان کی طرح) راندہِ درگاہ لعنتی ہو گئے، جبکہ نیک ہستیوں کو پہچاننے والے خود نیک ہو گئے۔
جیسے پوچھا جائے کہ آپ عبدالرحمان ہو یا آپ کا نام عبدالرحمان ہے؟ ایک کہتا ہے کہ جی میرا نام جو عبدالرحمان ہے وہ میں ہوں اور میں جو ہوں وہ عبدالرحمان ہے۔ یہ ہے وہ بات کہ تقویٰ مومن ہے یا مومن تقویٰ ہے؟ نیکی نیک ہے یا نیک نیکی ہے؟ ایمان مومن ہے کہ مومن ایمان ہے؟ ان باتون کو جس نے جانا ہے اس نے اس بات کو جان لیا ہے کہ نیک جو کرتا ہے وہ نیکی ہے۔ مومن جو کرتا ہے وہ ایمان ہے۔ متقی جو کرتا ہے وہ تقویٰ ہے۔ یہ ادھر ادھر سے کس نے لیا ہے؟ یہ چیزیں علیحدہ نہیں ہیں۔ شیطان نے ہمیں دھوکہ دینے کے لیے ان کو جدا کیا کہ "نیکی" الگ ہے اور "نیک" الگ۔ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ نیکی میں اور آپ کرتے ہیں یہ میں اور آپ ہیں۔ جبکہ نیک تو بے عیب ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ ہے، اللہ کے نبی ﷺ ہیں، سائیں جی ہیں اور ماں باپ ہیں۔ انہوں نے عمل نہیں کیا۔
عمل سے کوئی جنت میں نہیں جائے گا۔ اگر صرف عمل کی بات ہوتی تو میاں بیوی بھی عمل کرتے ہیں لیکن انہیں اولاد کوئی نہیں ہوتی۔ تعلیم کرتے تو دنیا کے استاد بھی تعلیم دیتے ہیں، مگر ہا ہی وہ وحی ہوتی ہے اور نا ہی اس میں علمِ الہی ہوتا ہے۔ ان باتوں سے مبارک نہیں ملتی جبکہ عاجز جو آپ کو مبارک باد دے رہا ہے، یہ سچی مبارک ہے جو عاجز کو بھی ہے، اللہ کے نبی ﷺ کو بھی ہے اور اللہ کو بھی ہے۔ مزہ تو تب ہے جب سب کے لیے ایک ہی بات ہو؛ جنت میں بیٹھے ہوں، ایک دوسرے کے ساتھ ہوں سب کی جنت بھی وہ ہو، اور جنت میں سب ایک دوسرے کے بھی وہ ہوں۔ مزہ تو یہ ہے۔
بہت بہت مبارک ہو آپ کو، آپ کے والدین کو، آپ کے سائیں جی کو، آپ کے نبی رسول ﷺ کو اور آپ کے اللہ کو بھی مبارک ہو۔ سب کو مبارک ہوگئی نا! سچی بات ہے یہ۔ اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دیں، یہ اپنا "کرنا مرنا" عارضی ہے، اس میں وہ مزہ نہیں ہوتا۔ جسے آپ (اپنی عقل سے) نیکی سمجھتے ہیں، وہ نیکی نہیں ہے۔ آپ نے وہی بات سمجھی جو گندوں کے بڑے (شیطان) نے سمجھی تھی۔ یہ نیکیاں نہیں ہیں بلکہ نیکی وہی ہے جو ماں باپ، سائیں جی، اللہ کے نبی ﷺ اور اللہ کہے۔ اللہ فرماتا ہے: قل ھو اللہ احد "اے میرے محبوب! تو کہہ دے وہ نیکی ہے"۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں: "اے میرے نائب!(قیامت تک) تو کہہ دے یہ نیکی ہے"۔ اور قیامت تک ماں باپ کہتے ہیں کہ "یہ میرا عمل نہیں ہے،یہ اللہ نے مجھے اولاد دی ہے، یہی نیکی ہے"۔
جس طرح خلوت میں کسی تیسرے کا ہونا (حتیٰ کہ کتے کا بھی اس خلوت میں بیٹھنا) اس خلوت کو خراب اور حرام کر دیتا ہے، اسی طرح یہ اعتکاف کی جلوت ہے تو سہی، لیکن ان ہستیوں (اللہ و رسول ﷺ) کے علاوہ یہاں کسی اور سے ملاقات نہیں ہے۔ بس ان کے ساتھ لو لگا کر دیکھو۔ اللہ جانتا ہے، ہم گناہ گاروں سے کچھ ہو تو نہیں سکا، لیکن ہم کر یہی رہے تھے اور آج بھی کر یہی رہے ہیں۔ یہ سب اس کی طرف سے ہو رہا ہے، ہمارا کوئی دعویٰ نہیں۔ سارا کچھ وہ پہلے کر دیتا ہے، بعد میں ہمیں دکھا دیتا ہے۔
جزاکم اللہ خیراً۔ السلام علیکم۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں