بیان: اتوار پروگرام ۱۷ روزہ
(۱۷ رمضان ۲۰۲۶ء / ۸ مارچ ۲۰۲۶ء)
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (سورہ البقرہ: 183)
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: "اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کر سکو۔" باری تعالیٰ کی منشا اور چاہت یہ ہے کہ بندے متقی ہوں، وہ اللہ کے ساتھ ہوں اور اللہ ان کے ساتھ ہو؛ وہ اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ ہوں اور اللہ کے بندے ان کے ساتھ ہوں۔ یہی وہ "سنت اللہ" ہے جو ہمیشہ سے چلتی آئی ہے۔ اللہ خود بتاتا ہے کہ میں نے یہ روزے پہلوں پر بھی اسی لیے فرض کیے تھے اور تمہیں بھی اسی لیے دے رہا ہوں۔
اگر کوئی اللہ کی اس چاہت کے مطابق نہیں ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ مومن بنے اور پھر اپنے ایمان کی تصدیق کرے۔ مومن کا اپنے ایمان کی تصدیق کرنا دراصل ایک ظاہری اقرار ہے: اٰمَنتُ بِاللّٰہِ وَ مَلئِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَ رَسُلِہِ وَ لیَومِ الاٰخِرِ وَ القَدِر خَیرِہِ وَ شَرِّہِ مِنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ وَالبَعثِ بَعدَالمَوتِ
جب بندہ یہ کلمات کہتا ہے تو وہ اپنے ایمان کی تصدیق کرتا ہے۔ اگر وہ زبانی تصدیق نہ بھی کرے تو اس کا عمل بتاتا ہے کہ وہ اللہ، اللہ کے نبی ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے ساتھ ہے۔ وہ جماعت، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ میں شامل رہتا ہے۔ گو کہ وہ ہر وقت زبان سے اقرار نہیں کرتا، لیکن "کونوا مع الصادقین" (سچوں کے ساتھ ہو جاؤ) کے تحت وہ اپنے عمل سے ایمان کی گواہی دیتا ہے۔ ایسا شخص نہ منافق ہوتا ہے نہ منافقوں کے ساتھ، نہ کافر ہوتا ہے نہ کافروں کے ساتھ، اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ شیطان کے ساتھ نہیں ہوتا۔
ایمان کی دو صورتیں ہیں: ایک وہ جو اپنے اقرار سے تصدیق کرے اور دوسرا وہ ایمان جو اپنے حال سے خود اپنی گواہی دے۔ ایمان میں زبانی اقرار سے زیادہ تصدیقِ قلب ضروری ہے۔ حقیقی تصدیق یہ نہیں کہ آپ اور میں کیا عمل کر رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم حق کی پہچان رکھتے ہیں یا نہیں۔ اگر زبان تصدیق کرے لیکن وجود اس کا ساتھ نہ دے، تو یہ کھلا نفاق ہے۔
جس نے عبادت کی حقیقت کو جان لیا، اس نے دراصل ایمان کو مانا۔ عبادت تو صرف ماننے کا نام ہے، جبکہ "مومن" جانا پہچانا جاتا ہے۔ ایمان کا جاننا یہ ہے کہ انسان اللہ، اس کے نبی ﷺ، نبی کے نائب (امام/مرشد) اور اپنے ماں باپ کے مقام کو پہچانے۔ جو ان ہستیوں کو نہیں جانتا، وہ بھلا کس کو مانتا ہے؟ اگر کوئی اللہ کو پہچانے اور پھر اس کا حکم مانے، تبھی وہ عمل عبادت بنے گا۔ یہی معاملہ نبی ﷺ، سائیں جی (مرشد) اور ماں باپ کے حکم کا ہے۔
شیطان نے جب بندے کی نماز پر اعتراض کیا تو اللہ نے فرمایا: "میں اس کی حمد و ثناء نہیں دیکھتا، وہ تو میں اپنی خود کرتا ہوں۔ میں تو صرف یہ دیکھتا ہوں کہ اس بندے نے میرا حکم مانا ہے، جبکہ تو نے (شیطان نے) میرا حکم چھوڑ دیا تھا۔"
روزہ محض ایک رسم نہیں، بلکہ اس لیے عبادت ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ ایمان محض زبانی اقرار نہیں بلکہ آپ کی اپنی ہستی کی تصدیق ہے۔ جس نے اللہ، رسول ﷺ، اپنے امام اور اپنے والدین کو پہچان لیا، وہی صاحبِ ایمان ہے۔ صرف ماں باپ کے ہاں پیدا ہو جانا تو ایک اتفاق ہے، جس دن آپ نے ان کے مقام کو پہچان لیا، اس دن آپ کا ایمان مکمل ہوگا۔
پہچان علم سے آتی ہے، عمل سے نہیں۔ کوئی کتنی ہی تہجدیں پڑھے یا حج کرے، وہ محض عمل سے "معرفت" کی پی ایچ ڈی نہیں کر سکتا؛ یہ تو استاد سے پڑھنے اور "تعلیمِ تزکیہ" سے حاصل ہوتی ہے۔ ایمان اور عبادت دو الگ چیزیں ہیں۔ اگر عبادت ایمان (پہچان) کے بغیر ہو تو وہ معتبر نہیں۔ اگر آپ کو اللہ، نبی ﷺ، سائیں جی اور ماں باپ کی حقیقی پہچان ہے، تو وہاں آپ کا وجود ہی ایمان بن جاتا ہے۔ وہاں کسی تیسری چیز کی گنجائش نہیں رہتی۔
عبادت تب بنتی ہے جب آپ ان ہستیوں کا حکم مانتے ہیں جن پر ایمان لائے ہیں۔ صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؓ نے یہی کیا؛ انہوں نے نبی ﷺ کا حکم مانا اور خود بخود اللہ کا حکم ماننے والے بن گئے۔ قیامت تک یہی سلسلہ چلے گا۔ جب کوئی اللہ کے نبی ﷺ کے نائب کا حکم مانے گا یا ماں باپ کی اطاعت کرے گا، تو یہ سب عبادت شمار ہوگی۔ جو شخص حکم دینے والے کے ادب کو نہیں جانتا، اللہ اس کے تمام اعمال غارت کر دیتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: ﴿أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ﴾۔
اگر کوئی اللہ، نبی ﷺ، مرشد اور ماں باپ پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ ان کے احکام پر کیا عمل کرے گا؟ وہ تو صرف اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اگر تم اللہ کے نبی ﷺ کی آواز سے اپنی آواز بلند کرو گے یا ماں باپ کو "اُف" کہو گے تو تمہارے اعمال برباد کر دیے جائیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ عبادت کا حکم دینے والے یہی ہیں۔ جب بنیاد ہی (حکم ماننا) ختم ہو گئی، تو وہ عمل جسے تم عبادت سمجھ رہے ہو، وہ عبادت ہی نہ رہا۔
ہم نے دین کو بہت سستا سمجھ لیا ہے۔ انسان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رحمتوں کا فائدہ تو اٹھاتا ہے لیکن بے قدر اور بے حیا بن جاتا ہے۔ وہ ماں باپ کی اہمیت نہیں جانتا، حالانکہ اللہ نے اسے ان کے پاس مہمان بنا کر بھیجا ہے اور ان کے قدموں تلے جنت رکھی ہے۔ مرشد (سائیں جی) پوری زندگی پکارتے رہتے ہیں کہ "کشتی میں سوار ہو جاؤ" (جیسے نوح علیہ السلام نے پکارا تھا)، لیکن انسان سمجھتا ہے کہ شاید نجات کے اور بھی راستے ہیں۔ یاد رکھیں، آپ کی حفاظت یہی "کشتی" کر سکتی ہے۔ اگر آپ مومن ہیں تو اللہ، سائیں جی اور ماں باپ ہی آپ کے بچاؤ کا راستہ ہیں۔
اللہ جب ناراض ہوتا ہے تو اس کی وجہ بندے کا بے ایمان ہونا ہوتا ہے۔ کتنا بڑا منافق ہے وہ شخص جو اللہ کا حکم سنا کر کہتا ہے کہ میں عبادت کر رہا ہوں، جبکہ اس کے دل میں پہچان نہیں۔ اللہ نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا، شیطان نے انکار کیا کیونکہ وہ اپنے حکم کو اللہ کے حکم پر فوقیت دے رہا تھا۔ عبادت تو نام ہی حکمِ الہی میں عمل کرنے اور صاحبِ حکم کا ادب کرنے کا ہے۔ جو بے ادب ہے، وہ منافق ہے، چاہے وہ کتنا ہی "دین دار" کیوں نہ بنتا پھرے۔
حقیقی یار وہ ہے جو "یارِ غار" کی طرح اپنے محبوب کے ساتھ ہو، جسے کوئی دھوکہ نہ دے سکے۔ منافق تو اپنے ایمان کا اقرار بھی منافقت سے کرتا ہے، اور اس کا یہ حال اللہ اور اس کے بندوں سے چھپا نہیں رہتا۔
روزے کی حقیقت میں صرف دو چیزیں ہیں: ایک ایمان اور دوسرا آپ کی اپنی ذات (لعلکم تتقون)۔ جس نے ان دو کے علاوہ کچھ اور ڈھونڈا، وہ خسارے میں ہے۔ آپ کی تصدیق اللہ، اس کا نبی ﷺ، سائیں جی اور والدین کی رضا ہے۔ عمل سے کوئی جنتی نہیں ہوتا، حتیٰ کہ حضور ﷺ نے بھی فرمایا کہ میں بھی اللہ کے فضل کے بغیر جنت میں نہیں جا سکتا۔ روزہ تو ان ہستیوں کے ادب اور ان کی عزت کرنے کا نام ہے۔ جو اس ادب کے ساتھ روزہ رکھتا ہے، وہ پہلے عشرے سے رحمت، دوسرے سے مغفرت اور تیسرے سے عافیت سمیٹ کر ان سب ہستیوں کو اپنے ساتھ (اپنی رضا میں) لے کر جاتا ہے۔
تقویٰ کا مطلب ہی یہ ہے کہ آپ مومن ہوں اور سچوں کے ساتھ (وکونوا مع الصادقین) ہو جائیں۔ اللہ، اس کے نبی ﷺ، نبی کے نائبین اور والدین سے بڑھ کر سچا کون ہے؟ اللہ اپنے نبی ﷺ کی گواہی خود دیتا ہے، اور نبی ﷺ اپنے نائبین کی گواہی دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے ماں باپ کو نہیں بتانا پڑتا کہ ہم ان کی اولاد ہیں، یہ ان کا ماننا ہے کہ ہم ان کے بیٹے یا بیٹی ہیں۔ اسی طرح اللہ نے ہمیں حکم دیا کہ ماں باپ کو "اُف" تک نہ کہو، چاہے ان کے عمل جیسے بھی ہوں، تم نے صرف ان کے مقام کو دیکھنا ہے۔
جب اللہ ناراض ہوتا ہے تو نبی ﷺ، تمام نائبین اور والدین بھی ناراض ہو جاتے ہیں۔ رمضان ان سب کو راضی کرنے کا موقع ہے۔ یہ ہستیاں منافقت سے راضی نہیں ہوتیں بلکہ صدقِ دل سے حکم ماننے پر راضی ہوتی ہیں۔ اگر آپ نے انہیں راضی نہ کیا تو آپ اللہ کی لعنت کے مستحق ٹھہریں گے۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ گھر بیٹھ کر بڑے دین دار بن گئے ہیں۔ انہیں نہیں پتا کہ نبی ﷺ کے دور میں جو پکارنے پر نہیں آتے تھے، وہ منافق کہلاتے تھے۔ یہی اصول آج بھی مرشد اور والدین کے لیے ہے۔ مولوی شاید آپ کو یہ نہ بتائے، لیکن دین بتانے والی اصل ہستیاں یہی چار ہیں۔ نبی ﷺ کے نائبین کا مقام بنی اسرائیل کے انبیاء جیسا ہے؛ ان کی عزت و تابعداری دراصل نبی ﷺ ہی کی تابعداری ہے۔
اپنے سائیں جی کے ساتھ رہیں۔ جو بلا اجازت ساتھ چھوڑ جاتا ہے، وہ منافقت کی راہ پر ہوتا ہے۔ اگر کبھی کوئی فرض (جیسے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا) کسی مجبوری سے چھوڑنا پڑے، تو بھی مرشد سے اجازت اور طریقہ پوچھنا چاہیے۔ اسی طرح عملِ صالح ( وہ اعمال جو فرض کی ادائیگی کے لیے کئے جاتے ہیں جیسا کہ نماز کی ادائیگی کے لیے وضو، تیمم وغیرہ) اور اگر سائیں جی کی صحبت چھوڑ کر جانے کی ضرورت پیش آ جائے تب بھی اجاز لے کر جائیں۔ اس کے لیے بھی یہی ضابطہ ہے۔
روزہ صرف کھانے پینے کا نام نہیں ہے۔ بھول کر کھا لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ وہاں اللہ کھلا رہا ہوتا ہے، لیکن جان بوجھ کر حکم عدولی کرنا روزے کی روح کے خلاف ہے۔ جن کے حکم سے عبادت بنتی ہے، انہیں کبھی ناراض نہ کرنا۔ اولاد کبھی ماں باپ کی استاد نہیں بن سکتی۔ حکم دینے والے کو حکم نہیں دیا جاتا؛ اگر آپ امام یا والدین کو حکم دینے لگیں گے تو آپ کی اپنی عبادت غارت ہو جائے گی۔
خلاصہ یہ کہ اگر اللہ، ماں باپ یا سائیں جی ناراض ہیں، تو انہیں ہر حال میں راضی کریں۔ ان کے راضی ہونے سے ہی اللہ راضی ہوگا۔ اگر وہ ناراض رہے تو آپ کے لیے نجات کا دروازہ بند ہے۔
(وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں