نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

دستِ عطا کی بے نیازی

 

بیان مبارک بعد نماز عشاء روزہ 6 ماہ رمضان المبارک 2026

 


*نکاتِ کلیدی (خلاصہِ کلام)*

* *عطاؤں کی تقسیم:* رمضان کے تینوں عشرے اللہ کے حکم، علم اور محبت کی عطا پانے کا ذریعہ ہیں، جس کا انتہا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا ہے۔


* *حکمی عبادت کا ثواب:* پہلے عشرے میں حکم بجا لانے پر نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ستر گنا ملنا اللہ کی خاص عطا ہے۔


* *علمی عبادت کا فیض:* علم کا سلسلہ اللہ سے نبی ﷺ، پھر نائبین اور پھر والدین کے ذریعے مقتدی اور اولاد تک پہنچتا ہے اور ثواب کی یہ نسبت واپس مربی تک جاتی ہے۔


* *نظامِ تربیت:* شاگرد یا اولاد اپنے طور پر کچھ نہیں دے سکتے؛ یہ مربی (ماں باپ، استاد، مرشد) ہی ہوتے ہیں جو اپنی تربیت سے مقتدی کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ ان کی خدمت کر سکے، گویا مربی اپنی تربیت سے اپنے درجات خود بلند کرتا ہے۔


* *وحدتِ بندگی:* عبادت صرف اللہ کی ہے (حکمی وحدت)، لیکن اس عبادت کی قبولیت اور ثواب کی بلندی علم اور نسبتِ مربی کے بغیر ممکن نہیں۔




*رمضان کی حقیقت اور تین درجات*

رمضان المبارک میں تین عشرے ہیں اور ان تینوں عشروں میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں حکمی، علمی اور حبی عبادت کی عطا میں یہ سارا کچھ دیتا ہے۔ اس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم کی عطاء ہے، علم کی عطاء بھی ہے اور محبت کی عطاء بھی ہے۔ جسے یہ سارا کچھ ملتا ہے، یہی وہ ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جنت بھی پاتا ہے، نبی ﷺ کی جنت بھی پاتا ہے، اور اپنے سائیں جی اور ماں باپ کی جنت بھی پاتا ہے۔ اور یہی وہ ہے جو معیت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا ساتھ پاتا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے محبت کی یہ خوشخبری پاتا ہے کہ "اب تو یاد رکھ لے، میں تجھ سے کبھی بھی ناراض نہیں ہوں گا"۔


*پہلا عشرہ: حکمی عبادت اور ثواب کی شان*

پہلی بات جو جاننے والی ہے وہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ رمضان کے روزے میں جو نفل ادا کرتا ہے اسے فرض کا ثواب ملتا ہے، اور جو فرض ادا کرتا ہے اسے ستر فرضوں کا ثواب ملتا ہے۔ یہ ہے "حکم کا حال"۔ حکم میں جب کوئی اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اسے یہ عطاء ہوتی ہے۔ علم میں اللہ سبحان وتعالیٰ جو اپنے بندے کو دیتا ہے اس کی بھی شان بہت بلند ہے کہ ادا وہ نفل کرتا ہے اور اسے ثواب فرض کا ملتا ہے اور فرض ادا کرنے پر ستر فرائض کا ثواب ملتا ہے۔


عبادت میں وہ حکم ادا کرتا ہے اور عطاء اسے علم ہوتا ہے، عبادت علم میں ادا کرتا ہے اور عطاء اسے محبت ہوتی ہے۔ یہ محبت پانے والا، علم پانے والا، حکمی عبادت پانے والا، پاتا اللہ کے نبی کی جنت، اپنے ماں باپ کی جنت اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ میں ابدی زندگی میں اللہ کی رضا پانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہ ہے جو رمضان المبارک کی عطاء میں اللہ پروردگار ہمیں دیتا ہے۔ 


*حکمی نیکی اور عبادتِ الٰہی*

اب جانیے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ پہلی بات یہ ہے کہ "حکمی نیکی" للہ رب العالمین میں عبادت صرف اللہ کی ہوتی ہے اور کسی کے لیے نہیں کی جا سکتی۔ حکمی عبادت میں اسے گیارہ مہینے جتنا ثواب ملتا ہے، وہ عبادت کا ثواب ہوتا ہے۔ جس کے لیے عبادت کی جاتی ہے وہ اللہ ہے، اس کے علاوہ عبادت کسی کے لیے نہیں ہوتی۔ یہ حکمی عبادت ہے۔  


*دوسرا عشرہ: علمی عبادت اور نسبتِ فیض*

"علمی عبادت" میں ایسے نہیں ہوتا۔ علمی عبادت میں جو عبادت ہو رہی ہوتی ہے، وہ "علم کی عطا" جو کرتا ہے اس کے لیے ہوتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے نبی رسول ﷺ کو علم کی عطا فرماتا ہے، نبی ﷺ اصحابِ اور اہلِ بیت کو عطا فرماتے ہیں، نبی ﷺ کے نائبین اپنے نائبین کو علم عطا فرماتے ہیں، اور یہ قیامت تک علم عطا فرمانے والے ہیں۔ ان میں اللہ بھی آتا ہے، ان میں نبی رسول علیہ السلام بھی آتے ہیں، ان میں نبی ﷺ کے نائبین بھی آتے ہیں اور ان میں ماں باپ بھی آتے ہیں۔


یہ وہ چار ہیں علم میں، جن کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ سارا کچھ دیتا ہے۔ ماں باپ کو جو ملتا ہے وہ اولاد سے علم کے صدقے ملتا ہے، اور امتِ مرحومہ کو جو ملتا ہے وہ نبی رسول ﷺ اور نبی رسول علیہ السلام کے نائب کے صدقے ملتا ہے۔ اللہ کے جتنے برگزیدہ نبی رسول، اللہ کے ولی، اللہ کے دوست جو ہیں ان سب کو جو علم میں ملتا ہے اللہ سے ملتا ہے۔ یہ علم کی عطاء ہے۔ 


*اطاعتِ حکم اور علم کا حصول*

پہلے حکمی عطا دیکھی؛ ماں کو بھی حکم سے، باپ کو بھی حکم سے، اللہ کے ولی کو بھی حکم سے، نبی رسول کو بھی حکم سے؛ سب کو حکم سے عطاء کیا۔ اور عبادت للہ رب العالمین عبادت صرف اللہ کی ہے۔ اب علم کی عطاء ہو رہی ہے۔ علم کی عطاء میں؛ اولاد کو ماں باپ سے ملے گا، سائیں جی سے اللہ کے بندوں کو ملے گا (جو ان کے شاگرد ہیں)، اور نبی ﷺ سے ملے گا اور نبی رسول ﷺ کے نائبین سے ملے گا؛ تمام قیامت تک آنے والے نائبین کو۔ اب یہ سب علم میں اللہ سے عطاء ہو رہا ہے۔ 


اس کا ثواب کیا ہے؟ (علم کی نسبت سے) نفل ادا کرو تو فرض کا ثواب ہے، اور فرض ادا کرو تو ستر فرائض ادا کرنے کا ثواب ہے۔ جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے، نبی ﷺ سے، اپنے سائیں جی سے اور ماں باپ سے (علم) لیتا ہے، جب ان کو دیتا ہے تو یہ ان کے نائبین کو ثواب ہو رہا ہوتا ہے، ان کی اولاد کو ہو رہا ہوتا ہے، ان کے پیچھے نماز پڑھنے والے مقتدیوں کو ہو رہا ہوتا ہے۔ ان سب سے مل کر علم کے ذریعے اسے اللہ کی رضا ملتی ہے۔ یہ دوسرا عشرہ جب آئے گا تو یہ علمی ہوگا۔ اللہ ہمیں روزے کی تمام برکات عطا فرمائے اور ہمیں ماں باپ کی خدمت کے قابل بنائے۔ اور ہم ان سب سے محبت میں تو لیں ہی لیں علم میں بھی لینے والے ہو جائیں۔ 


*علم میں عطا کا نظام: مربی کا اپنا کمال*

علم میں لینے والا کوئی ایسے ہو سکتا ہے کہ جو اولاد ہے وہ ماں باپ کو کچھ نہیں دے سکتی، شاگرد اپنے استاد کو کچھ نہیں دے سکتا، نبی ﷺ کے نائبین نبی ﷺ کو کچھ نہیں دے سکتے، اور اللہ کے بندے اللہ کو کچھ نہیں دے سکتے۔ علم میں ماں باپ اپنی اولاد کو تعلیم دیتے ہیں، تربیت دیتے ہیں، اسے اپنی اطاعت کرنے کے قابل کر دیتی ہے، اپنے سے محبت کرنے کے قابل کر دیتی ہے اور اپنی خدمت کے قابل کر دیتی ہے۔


اب یہ ہوتا ہے کہ علم کی عطاء میں یہ ماں باپ کو اولاد سے عطاء ہو گیا ہے۔ پڑھایا لکھایا بھی خود ہے، تعلیم و تربیت بھی خود کی ہے، روزہ بھی خود رکھوایا ہے اور سارا ثواب، ساری عطاء علم میں، اپنے آپ کو یہ سارے اونچے اونچے درجات ماں باپ نے خود ہی اپنے آپ کو دے دیئے ہیں، سائیں جی نے خود ہی اپنے آپ کو دے دیئے ہیں، نبی رسول علیہ السلام نے خود ہی اپنے آپ کو دے دئے ہیں، اللہ پروردگار نے خود ہی بڑی بڑی رضائیں اپنے آپ ہی لے لی ہیں۔ یہ سب علم کے اندر ہے۔ اسی طرح ان شاء اللہ تعالیٰ آگے محبت میں بھی آئے گا۔ 

*(وما توفیقی الا بااللہ)ٌ*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ سے مانگنا اور اللہ سے ہی لینا

بیان بعد نمازِ عشاء — 24 دسمبر 2025 ارشادِ پاک ہے کہ منافق وہ لوگ ہیں جو اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں: یخادعون اللہ والذین آمنوا ۔ یعنی وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں، لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ کوئی اللہ کو دھوکہ دے سکتا ہو یا کوئی اللہ کا دوست ہو، اللہ کا ساتھی ہو، اور کوئی اسے دھوکہ دینے کے قابل ہو۔  دراصل یہ منافقین اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مانگتے تو اللہ سے ہیں لیکن لیتے کسی اور سے ہیں۔

اللہ کا دوست یا اللہ کا بندہ

  بیان بعد نمازِ عشاء مورخہ 23 دسمبر  2025 مفہوم از: عبدالرحمان اللہ کی چاہت رکھنے والا انسان دو حالوں میں ہوتا ہے: یا تو وہ اللہ کا دوست بن جاتا ہے، یا پھر اس راستے پر چلتے چلتے اللہ کا بندہ بن جاتا ہے۔ اللہ کا دوست، یعنی اللہ کا ولی، وہ ہوتا ہے جو اپنے اللہ کو اپنا دوست بناتا ہے اوروہ سارے کام کرتا ہے جس میں اللہ سبحان و تعالیٰ اسے اپنا دوست بنا لیتا  ہے۔ یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ وہ اللہ کو دوست بناتا ہےاور اللہ اس کا دوست ہو جاتا ہے ۔

حقیقی چاہت اور دعائیہ چاہت میں فرق

 آڈیو سے مفہوم از: عبد الرحمن  اللہ اور اللہ کے بندے کی جو چاہت ہے یہ حقیقی چاہت ہے۔ یہ دعائیہ چاہت نہیں ہوتی کہ بس دعائیں مانگی جائیں کہ یا اللہ مجھے یہ کر دے، یا اللہ مجھے وہ بنا دے۔ یہ وہ چاہت بھی نہیں ہوتی کہ عبادت کے لیے دعا کی جائے کہ یا اللہ مجھے اپنا عابد بنا لے، مجھے تحجد گزار بنا لے۔ یہاں جو دعا ہوتی ہے، وہ کچھ اور ہوتی ہے۔ وہ دعا یہ ہوتی ہے: اَفَلَا اَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا کہ اللہ کی اس خاص مہربانی پر میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ یہ چاہت اپنی نہیں ہوتی، یہ حقیقی چاہت ہوتی ہے۔  حقیقی چاہت میں میری جو دعا ہوتی ہے وہ دعائیہ چاہت ہے۔ وہ عبادت کی اگر چاہت ہے تو وہ دعائیہ  چاہت ہے۔ اللہ کا بندہ بننے کی چاہت  ہے تو بھی یہ دعائیہ چاہت ہے۔ یہی وہ دعائی چاہت ہے۔  پھر ایک اللہ کی چاہت ہوتی ہے۔ جسے حقیقی چاہت ہم کہتے ہیں۔ آپ کو پتا ہے وہ حقیقی چاہت کیا ہے؟  حقیقی چاہت وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ بس یہ بات اگر دل میں بیٹھ جائے نا، تو سب کچھ سیدھا ہو جاتا ہے۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے ہیں، وہ حقیقی چاہت ہے۔ جو سائیں جی چاہتے ہیں، وہ حقیقی چا...