السلام علیکم ورحمتہ اللہ!
۷ رمضان المبارک ۲۰۲۶(زندگی بخیر آڈیو میسج)
اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن مجید میں اپنے بندوں کے لئے فرماتے ہیں: يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ، کہ وہ اللہ کی راہ میں نیکیاں بڑی سرعت سے یعنی بھاگ بھاگ کرکرتے ہیں۔ یہ بھی ارشاد پاک ہے کہ جلدی شیطان کی طرف سے ہے، اور آہستگی، سکون اور آرام کے ساتھ نیکی کرنا مومن کا شیوہ ہے۔ اب یہاں يُسَارِعُونَ میں جس جلدی کو نیکی بتایا گیا ہے، اس میں اور شیطانی جلدی میں فرق یہ ہے کہ نیکی کی جلدی وہ ہے جس کا پہلے سے پتہ ہوتا ہے، جبکہ وہ جلدی جس کا علم نہ ہو اور صرف افراتفری ہو، وہ شیطان کی طرف سے ہے۔ نیکیاں بڑھ بڑھ کے اور جلدی کرنی چاہئیں کہ پتہ نہیں دوبارہ موقع ملے یا نہ ملے۔
اگر کوئی نیکی کر رہا ہو تو اسے نیکی سے منع نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ نیکی سے روکنا شیطان کا کام ہے۔ اللہ کے بندے کا کام تو نیکی کی دعوت دینا ہے۔ اب دعوت کے بارے میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر شخص اگر دعوت دے تو وہ “حکم کی دعوت” ہونی چاہیے۔ جبکہ امی، ابا حضور، سائیں جی، اللہ کے نبی ﷺ اور اللہ کی ذاتِ مبارکہ؛ یہ محبت بھری ہستیاں جن کی محبت، ذات، صفات اور افعال کا اقرار و تصدیق بھی ہے اور جن پر ایمان، ایمانِ حقیقی ہے یہ اگر صرف دعوت بھی دے دیں تو وہی بڑی نیکی ہوتی ہے۔
اب اگر کوئی عام شخص دعوت دیتا ہے تو وہ نفل کی دعوت تو دے گا نہیں، اگر دے گا تو حکم ہی کی دے گا۔ کیونکہ دین میں اللہ سبحان و تعالیٰ نے حکم کی دعوت ہر ایک کے لیے رکھی ہے، جبکہ ماں باپ کی طرف سے، اپنے نبی رسول ﷺ کی طرف سے اور اپنی ذات کی طرف سے ہر خیر کی دعوت مخصوص رکھی گئی ہے۔ “یُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ” میں اللہ سبحان و تعالیٰ اپنے بندوں کو ہر طرح کی خیر کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ کے نبی بھی دیتے ہیں، سائیں جی بھی دیتے ہیں، ماں باپ بھی دیتے ہیں، مگر یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ جیسے زکوٰۃ ہر شخص نہیں دے سکتا اور نہ ہی ہر ایک پر زکوٰۃ فرض ہے۔
نیکی سے کسی کو روکنا نہیں چاہیے۔ یہ نیکی سے روکنا اور ہوتا ہے، نیکی کرنا اور ہوتا ہے اور کچھ بھی نا کرنا اور ہوتا ہے۔ کوئی حکمی نیکی کر رہا ہے، کوئی علمی نیکی کر رہا ہے یا کوئی حبی نیکی کر رہا ہے یہ بھی ٹھیک ہے۔ بلکہ اگر کوئی نیکی کر ہی نہیں رہا تو سبحان اللہ اس کے تو کیا ہی کہنے۔ اگر کوئی نیکی نہیں کرتا اگر کوئی نیکی سمجھ کر غلطی کر رہا ہے تو اس کی تعلیم کی جا سکتی ہے۔ بندہ اسے کہے کہ "جو نیکی آپ کر رہے ہیں، یہ اپیل نہیں کر رہی بلکہ مشکل پیدا کر رہی ہے"۔ یہ مشکل اس کانٹے کی طرح ہے جو تکلیف دیتا ہے۔ اسے تعلیم دی جا سکتی ہے جس کی پہلے نہیں ہوئی، لیکن جس کی پہلے سے تربیت ہو چکی ہو، اس کی اصلاح کریں گے تو وہ سخت ردِ عمل دے گا۔ عاجز نیکی سے منع نہیں کرتا کیونکہ یہ اللہ کے بندے کا کام نہیں ہے۔
نیکی وہ ہے جو آسانی سے کی جائے۔ اس نیکی کے کرنے میں جو مشکل آ رہی ہو اتنی سی مشکل بندہ دور کر لے اور باقی جو نیکی بچے بندہ وہ نیکی کر لے۔ کیونکہ اللہ سبحان و تعالیٰ بندے کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا، اور جو مشکل میں بندہ پڑتا ہے تو یہ مشکل میں پڑنا اس کا اللہ کے حضور نیکی نہیں ہوتی۔ کیونکہ اللہ سبحان وتعالیٰ ہمیں اس کے نتیجے میں بھی آسانیوں میں ہی ڈالنا چاہتا ہے۔ آج عارضی زندگی ہے ، کل کو اللہ اس کے بدلے اسے ابدی زندگی دینا چاہتا ہے۔
اس لیے اللہ سبحان وتعالیٰ نے رمضان المبارک اپنا مہمان مہینہ دیا ہے۔ مہمان یہ اللہ سبحان وتعالیٰ کا ہے، مہمان یہ نبی کریم ﷺ کا ہے لیکن دے یہ صحابہ اکرام، اہل بیت کو دیا ہے۔ نبی ﷺ نے اپنے یاروں دوستوں میں دے دیا ہے۔ ہے وہ اللہ سبحان وتعالیٰ کا مہمان لیکن دے ہمیں دیا ہے۔ یہ مہمان جب ہمارے پاس آتا ہے تو جس کا یہ مہمان ہے وہ بھی ہمارے ساتھ ہی ہوتا ہے۔
اتنی بڑی عطا ہے، اتنی عظیم عطا ہے کہ حکم میں رمضان مبارک کا نفل بھی فرض کے برابر، اور فرض ستر فرضوں کے برابر قرار دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں بے بہا فرضوں جیسا ثواب اور قرب عطا ہوتا ہے، یہ حکمی شان ہے۔ پھر ماں باپ، اللہ کا بندہ، نبی ﷺ اور خود اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ؛ تعلیم بھی خود دیتے ہیں، تذکیہ بھی خود فرماتے ہیں، اپنے بارے میں بھی خود بتاتے ہیں۔ پھر وہ بڑی بڑی رضائیں، عظیم محبتیں، کثرت سے درود پاک، ماں باپ کو راضی کرنا، اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے لیے قرآنِ مجید کی تلاوت، اس کا ذکر، جوق در جوق نمازیں اور روزے رکھنا وغیرہ یہ سب کچھ اللہ کے لیے، اللہ کے نبیﷺ کے لیے، سائیں جی کے لیے، ماں باپ کے لیے ہوتا ہے۔ وہاں حکمی ثواب کا ایسا بلند مقام ہے کہ بیان سے باہر ہے۔
پھر اللہ اکبر کبیرہ، علم کی عطا کو دیکھو۔ ذات کی صفات ہیں، اور صفات میں اعلیٰ صفت علم ہے۔ علم کی عطائیں کتنی وسیع ہیں۔ جہاں ہم ابھی پہنچے بھی نہ تھے، وہاں اللہ پروردگار نے فرمایا: آگے آؤ، میری محبت دیکھو، میرا پیار دیکھو۔ وہاں پہنچ کر سبحان اللہ کیفیت ہی اور ہو جاتی ہے۔ کوئی حکمی نیکی میں مشغول ہے، کوئی علمی نیکی تک پہنچ چکا ہے، اور کوئی حبی نیکی سے آگے بڑھ کر خود نیک تک جا پہنچا ہے۔ سبحان اللہ۔ جب وہ نیک تک پہنچ گیا تو نیکی کی طلب باقی نہیں رہتی، کیونکہ وہ تو ویسے بھی کسی کا محتاج نہیں۔ “لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْءٌ” اس جیسا کوئی نہیں۔ جس نے اسے بے مثل بنا دیا، اس کی مثل کون ہو سکتا ہے؟
پس آج وہی کرو جو اللہ اور اس کے نبی ﷺ چاہتے ہیں، اور ماں باپ کو راضی کر لو تاکہ کچھ کرنے کے قابل ہو جاؤ، ورنہ دنیا کی الجھنوں میں موت آ جائے گی اور کچھ نہیں کر سکو گے۔ جب ظالم کا ظلم بیان ہوتا ہے اس کے وقت میں تو مظلوم بھی حقیقت جان جاتے ہیں اور جو مظلوم نہیں ہونا چاہتے وہ بھی جان جاتے ہیں۔ اللہ سبحان وتعالیٰ نے شیطان کی ٹھیک ٹھاک مرمت کروانے کے لیے اسے استثناء دیا ہے، مگر جب وہ میدان میں آئے گا تو اسے وہ مار پڑے گی کہ جان کے لالے پڑ جائیں گے اور پھر سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے گا۔ اسے بھگایا بھی خود ہی جاتا ہے کہ پھر تیار ہو کر اس نے آنا ہوتا ہے۔ یہاں جو بھی ظلم ڈھائے گا، قیامت آنے سے پہلے اس کی قیامتِ صغریٰ آئے گی اور فوراً سے پیشتر اسے اس کا نتیجہ مل جائے گا جو اس نے ظلم ڈھایا ہوگا۔ اس لیے نیکی کرنے والوں کو کرنے دو، بدماشیاں تو خود ہی کہیں نہ کہیں سے نکل جاتی ہیں۔ اس لیے بدمعاشیاں کسی کی نکالنے کی کوشش نا کرنا۔ ہمیں تو بدمعاشیاں کر کے دیکھا رہا ہوتا ہے لیکن وہ بدمعاشیاں جدھر سے نکلنی ہوتی ہیں ادھر سے نکل جاتی ہیں۔ اسی طرح جب کوئی نیکیاں دیکھا رہا ہو تو اس کی تعلیم کرتے ہیں لیکن جب اس سے نیکیاں ہو رہی ہوں تو اب "الحمدللہ اور سبحان اللہ" "اللہ اکبر" کہتے ہیں۔ یہ بات میں بات ہے۔ سچ یہی ہے کہ نیکی کرنی چاہیے اور گناہ سے بچنا چاہیے۔
جزاک اللہ۔
والسلام
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں