نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کیا میں دو ہو سکتا ہوں اگر نہیں تو پھر ایک سچ دو کیوں!



روزہ ۳ ماہ رمضان ۲۰۲۶ بعد نماز فجر تعلیمی بیان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ جو ہمارا دل ہے یہ سچ سے سیدھا ہوتا ہے۔ جب تک یہ سیدھا نہ ہو لے، یہ دل سلیم نہیں ہو سکتا۔ جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور جب بندہ حاضر ہوتا ہے اور اللہ اکبر کہہ کر نماز میں داخل ہوتا ہے، تو اس کا منہ قبلہ کی طرف سیدھا ہونے پر اس کی نماز صحیح ہوتی ہے۔ اگر اس کا منہ قبلہ کی طرف نہ ہو( جو کہ فرض ہے)، تو اس کی نماز درست نہیں ہوتی اور یہ بندہ نماز پڑھ کر بھی بے نمازی ہی رہ جاتا ہے۔ 


یہی وہ بات ہے جس میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ مومن کو بتاتا ہے کہ جب تک تیرا دل سچ کو نہ پا لے، یہ سیدھا نہیں ہو سکتا۔


  اللہ سبحانہ وتعالیٰ لیس کمثل شئی، اللہ جیسا ہے ہی کوئی نہیں یعنی اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی اللہ ہے اور اللہ کے سوا کوئی نہیں، یہ سچ ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بات  جو کتنی ہی بڑی اونچی کیوں نا ہو، وہ سچ نہیں ہوتی۔ 


*سچ ایک ہی ہوتا ہے، سچ دو نہیں ہو سکتے۔*


یہی وہ بات ہے جو سچ کو بیان بناتی ہے۔ سچی باتیں بیان بن سکتی ہیں، جس طرح جھوٹی باتیں بیان بنائی جاتی ہیں، لیکن سچ ہمیشہ ایک ہی ہے۔ سچ کو ایک کے علاوہ اگر کوئی کہے کہ یہ دو ہیں یا تین ہیں، تو وہ سب سچ کے *علاوہ* ہے اور اسے سچ نہیں کہا جا سکتا۔ 

آپ ایک ہیں، میں ایک ہوں، یہ سچ ہے۔ ماں میری ایک ہے، یہ سچ ہے۔ اللہ میرا ایک ہے، یہ سچ ہے۔ آخری نبی رسول صلی اللہ علیہ وسلم آخری ہیں، اس لیے آخری ایک ہیں۔ 


*جب تک کوئی ایک کو نہیں پا لیتا، یہ اللہ کے بندے سے دور ہوتا ہے۔*


اللہ کا بندہ جب اللہ کے ساتھ شیر و شکر کرتا ہے، تو مومن کو قولاً سدیداً سچ ملتا ہے۔ یہ سچ ہی اس کے ساتھ شیر و شکر کر سکتا ہے کیونکہ وہ سچ کو مان لیتا ہے۔ اور یہ سچ ہی اسے اللہ اور اللہ کے نبی کے ساتھ شیر و شکر کرنے کے قابل بناتا ہے۔ جھوٹا کبھی اس لائق نہیں ہوتا۔ جیسے اکثر مسلمان ہیں، جو جھوٹ نا بھی بولتے ہوں، لیکن اگر وہ جھوٹ کو مان لیں، تو ان کا شیر و شکر جھوٹوں کے ساتھ رہ جاتا ہے۔


بس یہی وہ بات ہے جو اللہ اپنے بندے کو بتاتا ہے اور کہتا ہے: "یا ایھا الذین آمنوا قولوا قولاً سدیداً"۔ اے ایمان والوں، جب بھی بولا کرو سچ، پکا سچ بولا کرو۔ 


*پکا سچ کیا ہے؟* ایک ہی سچ ہوتا ہے، جو پکا ہے۔ جسے آپ نے بتایا، وہ بھی اسے پکا جان لے۔ جدھر سے جا کر پوچھنا ہے، پوچھ لے، ایک ہی سچ نکلے گا کہ آج چاند نکل آیا ہے، آج سورج نکل آیا ہے۔ ان کا پتہ کسی کو نہیں بتایا جاتا۔ سورج اپنا خود پتہ ہے، چاند اپنا خود پتہ ہے، ماں اپنا خود پتہ ہے، سچ اپنا خود پتہ ہوتا ہے۔


یہ سچ کا پتہ کسی کو نہیں ملتا جب تک یہ سچ کا پتہ دینے والا اللہ کا سچا بندہ نہ مل جائے۔ اسی لیے فرمایا: وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ، یعنی میرے سچے بندوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ ما توفیقی الا باللہ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ سے مانگنا اور اللہ سے ہی لینا

بیان بعد نمازِ عشاء — 24 دسمبر 2025 ارشادِ پاک ہے کہ منافق وہ لوگ ہیں جو اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں: یخادعون اللہ والذین آمنوا ۔ یعنی وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں، لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ کوئی اللہ کو دھوکہ دے سکتا ہو یا کوئی اللہ کا دوست ہو، اللہ کا ساتھی ہو، اور کوئی اسے دھوکہ دینے کے قابل ہو۔  دراصل یہ منافقین اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مانگتے تو اللہ سے ہیں لیکن لیتے کسی اور سے ہیں۔

اللہ کا دوست یا اللہ کا بندہ

  بیان بعد نمازِ عشاء مورخہ 23 دسمبر  2025 مفہوم از: عبدالرحمان اللہ کی چاہت رکھنے والا انسان دو حالوں میں ہوتا ہے: یا تو وہ اللہ کا دوست بن جاتا ہے، یا پھر اس راستے پر چلتے چلتے اللہ کا بندہ بن جاتا ہے۔ اللہ کا دوست، یعنی اللہ کا ولی، وہ ہوتا ہے جو اپنے اللہ کو اپنا دوست بناتا ہے اوروہ سارے کام کرتا ہے جس میں اللہ سبحان و تعالیٰ اسے اپنا دوست بنا لیتا  ہے۔ یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ وہ اللہ کو دوست بناتا ہےاور اللہ اس کا دوست ہو جاتا ہے ۔

حقیقی چاہت اور دعائیہ چاہت میں فرق

 آڈیو سے مفہوم از: عبد الرحمن  اللہ اور اللہ کے بندے کی جو چاہت ہے یہ حقیقی چاہت ہے۔ یہ دعائیہ چاہت نہیں ہوتی کہ بس دعائیں مانگی جائیں کہ یا اللہ مجھے یہ کر دے، یا اللہ مجھے وہ بنا دے۔ یہ وہ چاہت بھی نہیں ہوتی کہ عبادت کے لیے دعا کی جائے کہ یا اللہ مجھے اپنا عابد بنا لے، مجھے تحجد گزار بنا لے۔ یہاں جو دعا ہوتی ہے، وہ کچھ اور ہوتی ہے۔ وہ دعا یہ ہوتی ہے: اَفَلَا اَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا کہ اللہ کی اس خاص مہربانی پر میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ یہ چاہت اپنی نہیں ہوتی، یہ حقیقی چاہت ہوتی ہے۔  حقیقی چاہت میں میری جو دعا ہوتی ہے وہ دعائیہ چاہت ہے۔ وہ عبادت کی اگر چاہت ہے تو وہ دعائیہ  چاہت ہے۔ اللہ کا بندہ بننے کی چاہت  ہے تو بھی یہ دعائیہ چاہت ہے۔ یہی وہ دعائی چاہت ہے۔  پھر ایک اللہ کی چاہت ہوتی ہے۔ جسے حقیقی چاہت ہم کہتے ہیں۔ آپ کو پتا ہے وہ حقیقی چاہت کیا ہے؟  حقیقی چاہت وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ بس یہ بات اگر دل میں بیٹھ جائے نا، تو سب کچھ سیدھا ہو جاتا ہے۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے ہیں، وہ حقیقی چاہت ہے۔ جو سائیں جی چاہتے ہیں، وہ حقیقی چا...