نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تیرا اللہ، تیرا استاد اورتیرے ماںباپ کون؟

نوٹ: مندرجہ بالاآڈیو میں مندرجہ ذیل سوالات کا جواب دیا گیا ہے۔ 

’نائبِ خلیفہ اعظم‘ سے کیا مراد ہے اور یہ منصب علم کی عطا سے کیسے جڑا ہوا ہے؟


والدین سے ملنے والی ’وجودی عطا‘ اور اللہ کے بندے (نبی ﷺ) سے ملنے والی ’علمی عطا‘ میں کیا فرق ہے؟


اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ہر نعمت اور عطا کی تقسیم کے لیے کس ہستی کو منتخب فرمایا ہے؟


معلمِ مزکی کا سب سے پہلا اور بنیادی عملی کام (نفس کی تربیت کے حوالے سے) کیا ہوتا ہے؟


حلال کھانے اور حرام سے بچنے کا تعلق ’تزکیہِ نفس‘ سے کس طرح جڑا ہوا ہے؟


نفس ’مطمئنہ‘ کب ہوتا ہے اور دل کے ’سلیم‘ ہونے سے کیا مراد ہے؟


آیت وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِي کی روشنی میں دل میں ’روحِ محبت‘ پھونکنے کی حقیقت کیا ہے؟


نبی کریم ﷺ کے اس ارشادِ پاک کا کیا مطلب ہے کہ ’مجھے میرا اللہ کھلاتا اور پلاتا ہے‘؟


قرآن کی رو سے اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کو ’مردہ‘ کہنے سے کیوں منع کیا گیا اور ان کے رزق کی حقیقت کیا ہے؟


اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرنے کا حقیقی اور عملی طریقہ کیا ہے؟


آیت  ورفعنا لک ذکرک کے تحت نبی ﷺ کا تعلیمی و روحانی فیض کب تک جاری رہنے والا ہے؟



السلام علیکم ورحمتہ اللہ! 

 اللہ تعالیٰ اپنا فضل و کرم فرمائے۔ یہ بڑی بنیادی اور اہم دینی آیت اور اس کی تعلیم ہے جس کا بیان ہونا ازحد ضروری ہے۔

 بات یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جو فرمایا کہ میرے نبی ﷺ معلم و مزکی ہیں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے احسان کے طور پر انہیں مومنین کو دیا ہے، تو یہ معلم و مزکی اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی رحمت کے طور پر تمام اول و آخر مومنین کو عطا کیا ہے۔

اب نبی ﷺ معلم اور مزکی ہوئے اور یہ نعمت عطا کرنے والا خود اللہ پروردگار ہے۔ اللہ پاک دینے والا ہے اور معلم اللہ کے نبی ﷺ ہیں۔ معلم اور مزکی کی شان جو علم کی عطائ پر ہو گی ، تو یہی درحقیقت اللہ پروردگار کا نائب اور خلیفہ اعظم ہوگا۔  یہی وہ اصل بات ہے جو سمجھنے والی ہے۔


دوسری بات یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جب مومنین کا معلم و مزکی نہیں ہے، توپھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمارے کیا ہوئے؟ اللہ سبحانہ و تعالیٰ مومنین پر احسان کرنے والے، اپنا معلم و مزکی بندہ دینے والے رب سب ہوئے۔ اب ساری مہربانیاں اور ساری رحمتیں جو کہ علمی ہیں، اور حقیقت میں رحمت و محبت میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفتِ عظیمہ 'علم' سے ہے۔ان تمام علمی رحمتوں کا منبع اگرچہ اللہ کی ذات ہے، مگر ان کا مرکز و محور اللہ کے عظیم بندے ﷺ کا دستِ مبارک ہے۔ جو عطا جس ہاتھ پر اتری ہے، وہ تقسیم بھی اسی ہاتھ سے ہونی ہے۔


ماں باپ سے ہر عطا 'وجودی' ہے، جبکہ اللہ کے بندے سے ہر عطا 'علمی' ہے۔ اور یہ اللہ کا بندہ جس سے ہمیں ہر علمیربی عطا حاصل ہوئی ہے، یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی خاص برکت، نعمت اور اللہ کا وہ بندہ ہے جو 'اسریٰ بعبدہ' کی شان والا ہے۔ وہ وہ ہے جسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ہر عطا دینے کے لیے چنا۔جب یہ چناؤ یہ انتخاب ہو گیا تو اب ثابت ہوا کہ اللہ کے نزدیک اللہ کی سب سے بڑی نعمت اللہ کا بندہ نبی ﷺ ہے۔


میں جو عرض کرنا چاہتا ہوں وہ ایک بنیادی اونچا فرض ہے جو بیان ہونا ہی چاہیے اور ہو بھی رہا ہے، لیکن اس کی حقیقتِ رحمت و محبت کو ماننا ہی درحقیقت اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ کو ماننا اور آپ ﷺ سے محبت کرنا ہے۔ وہ یہ ہے کہ استاد، معلم اور مزکی جو ہوتا ہے وہ ہمیں حلال کھلاتا اور حرام سے بچاتا ہے۔ یہ سارے کا ساراجو کھانا پیناہے یہ نفس کی بقا کے لیے ہے، جس کھانے پینے میں نفس کی عارضی زندگی کا ہر طرح کا سامان آ جاتا ہے۔ ہمیں یہ کھلانے پلانے والا اب درحقیقت ہمیں وہ نفسانی خواہشی تعلیم دیتا ہے جو نفس کی تعلیم بنتی ہے۔ اگر وہ کھلائے پلائے نہ، تو جب تک نفس کی زندگی ہے، بقا کی چیزوں کی تعلیم نہیں ہو سکتی۔

یہ تعلیم تزکیہ ہوتا ہی تب ہے جب اللہ کے بندے نے ہمیں حلال میں کھلایا ہو اور حرام سے منع کا حکم دے کر حرام سے بچایا ہو۔ یعنی کھلانا پلانا اللہ کے بندے کے ہاتھ سے ہو۔ یہ وہ تعلیم ہے اور وہ تزکیہ ہے جو نفس کو ہوتا ہے۔ جس سے نفس پھر جب مطمئنہ ہو جاتا ہے تو پھر اسے قلب کہا جاتا ہے اور یہ قلب جب سلیم ہو جاتا ہے تو اب اللہ کا بندہ اس میں محبت پھونکتا ہے۔ اب "ونفخت فیہ من روحی"   میںیہ روح ہو جاتا ہے۔ اللہ اکبر! روح 'امرِ ربی' ہے، اور یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے بندے سے روح ہو جاتا ہے ۔ اب اس کی ملاقاتیں کروائی جا رہی ہیں۔سبحان اللہ!


اس لیے پہلے یہ کھلانے پلانے کا کام اللہ کا بندہ کرتا ہے۔ اب نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے تمہیں کھلایا اور پلایا ہے۔ اب تم جو روزہ رکھتے ہو، حج کرتے ہو، زکوٰۃ دیتے ہو یا شادی بیاہ کرتے ہو، یہ سب حلال میں کھانا پینا ہے اور میں نے تمہیں حرام سے بچایا ہے اور تم حرام سے بچتے ہو۔ اب جو کھلاتا پلاتا ہے وہ معلم اور مزکی ہوتا ہے۔ جس نے ہمیں کھلایا پلایا نہیں، وہ ہمارا نا ہی معلم بنا اور نا ہی ہمارا مزکی بنا۔ ہمیں معلم و مزکی دینے والا اللہ پروردگار ہے۔ 


اب نبی ﷺ کا ارشادِ پاک سنیں، فرمایا: "تم میں سے کون ہے جو میری طرح روزہ رکھے گا؟ مجھے تو میرا اللہ کھلاتا اور میرا اللہ پلاتا ہے"۔ یہ ہے وہ معلم و مزکی جو ہمیں ملا ہے، جسے اللہ پروردگار نے علم سے کھلایا اور علم سے پلایا ہے۔ اسی لیے جب اللہ کی راہ میں مرنے والا مرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اسے مردہ نہ کہو، اسے میں کھلاتا اور میں پلاتا ہوں۔


بات یہ ہے کہ ہمارا اللہ ہم سے محبت کرتا ہے، اسی لیے اس نے ہماری تعلیم و تز کیہ کے لیے اپنا بندہ ہمیں دیا ہے۔ اللہ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے۔ اللہ اس کی تعلیم کرتا اسے پاک و صاف کرتا اسے رحمتوں اور برکتوں والا بنا تا اوراپنی چاہت میںڈھالتا ہے اور اللہ کا بندہ ہمیں اپنی محبتوں میں ڈھالتا اور اپنی چاہت بناتا ہے۔ اور یہ فیض قیامت تک جاری رہنے والا ہے، جیسا کہ فرمایا: "ورفعنا لک ذکرک"۔


والسلام

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ سے مانگنا اور اللہ سے ہی لینا

بیان بعد نمازِ عشاء — 24 دسمبر 2025 ارشادِ پاک ہے کہ منافق وہ لوگ ہیں جو اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں: یخادعون اللہ والذین آمنوا ۔ یعنی وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں، لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ کوئی اللہ کو دھوکہ دے سکتا ہو یا کوئی اللہ کا دوست ہو، اللہ کا ساتھی ہو، اور کوئی اسے دھوکہ دینے کے قابل ہو۔  دراصل یہ منافقین اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مانگتے تو اللہ سے ہیں لیکن لیتے کسی اور سے ہیں۔

اللہ کا دوست یا اللہ کا بندہ

  بیان بعد نمازِ عشاء مورخہ 23 دسمبر  2025 مفہوم از: عبدالرحمان اللہ کی چاہت رکھنے والا انسان دو حالوں میں ہوتا ہے: یا تو وہ اللہ کا دوست بن جاتا ہے، یا پھر اس راستے پر چلتے چلتے اللہ کا بندہ بن جاتا ہے۔ اللہ کا دوست، یعنی اللہ کا ولی، وہ ہوتا ہے جو اپنے اللہ کو اپنا دوست بناتا ہے اوروہ سارے کام کرتا ہے جس میں اللہ سبحان و تعالیٰ اسے اپنا دوست بنا لیتا  ہے۔ یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ وہ اللہ کو دوست بناتا ہےاور اللہ اس کا دوست ہو جاتا ہے ۔

حقیقی چاہت اور دعائیہ چاہت میں فرق

 آڈیو سے مفہوم از: عبد الرحمن  اللہ اور اللہ کے بندے کی جو چاہت ہے یہ حقیقی چاہت ہے۔ یہ دعائیہ چاہت نہیں ہوتی کہ بس دعائیں مانگی جائیں کہ یا اللہ مجھے یہ کر دے، یا اللہ مجھے وہ بنا دے۔ یہ وہ چاہت بھی نہیں ہوتی کہ عبادت کے لیے دعا کی جائے کہ یا اللہ مجھے اپنا عابد بنا لے، مجھے تحجد گزار بنا لے۔ یہاں جو دعا ہوتی ہے، وہ کچھ اور ہوتی ہے۔ وہ دعا یہ ہوتی ہے: اَفَلَا اَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا کہ اللہ کی اس خاص مہربانی پر میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ یہ چاہت اپنی نہیں ہوتی، یہ حقیقی چاہت ہوتی ہے۔  حقیقی چاہت میں میری جو دعا ہوتی ہے وہ دعائیہ چاہت ہے۔ وہ عبادت کی اگر چاہت ہے تو وہ دعائیہ  چاہت ہے۔ اللہ کا بندہ بننے کی چاہت  ہے تو بھی یہ دعائیہ چاہت ہے۔ یہی وہ دعائی چاہت ہے۔  پھر ایک اللہ کی چاہت ہوتی ہے۔ جسے حقیقی چاہت ہم کہتے ہیں۔ آپ کو پتا ہے وہ حقیقی چاہت کیا ہے؟  حقیقی چاہت وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ بس یہ بات اگر دل میں بیٹھ جائے نا، تو سب کچھ سیدھا ہو جاتا ہے۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے ہیں، وہ حقیقی چاہت ہے۔ جو سائیں جی چاہتے ہیں، وہ حقیقی چا...