آڈیو سے مفہوم از: عبد الرحمن
اللہ اور اللہ کے بندے کی جو چاہت ہے یہ حقیقی چاہت ہے۔ یہ دعائیہ چاہت نہیں ہوتی کہ بس دعائیں مانگی جائیں کہ یا اللہ مجھے یہ کر دے، یا اللہ مجھے وہ بنا دے۔ یہ وہ چاہت بھی نہیں ہوتی کہ عبادت کے لیے دعا کی جائے کہ یا اللہ مجھے اپنا عابد بنا لے، مجھے تحجد گزار بنا لے۔
یہاں جو دعا ہوتی ہے، وہ کچھ اور ہوتی ہے۔
وہ دعا یہ ہوتی ہے: اَفَلَا اَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
کہ اللہ کی اس خاص مہربانی پر میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟
یہ چاہت اپنی نہیں ہوتی، یہ حقیقی چاہت ہوتی ہے۔
حقیقی چاہت میں میری جو دعا ہوتی ہے وہ دعائیہ چاہت ہے۔ وہ عبادت کی اگر چاہت ہے تو وہ دعائیہ چاہت ہے۔ اللہ کا بندہ بننے کی چاہت ہے تو بھی یہ دعائیہ چاہت ہے۔ یہی وہ دعائی چاہت ہے۔
پھر ایک اللہ کی چاہت ہوتی ہے۔ جسے حقیقی چاہت ہم کہتے ہیں۔ آپ کو پتا ہے وہ حقیقی چاہت کیا ہے؟
حقیقی چاہت وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ بس یہ بات اگر دل میں بیٹھ جائے نا، تو سب کچھ سیدھا ہو جاتا ہے۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے ہیں، وہ حقیقی چاہت ہے۔ جو سائیں جی چاہتے ہیں، وہ حقیقی چاہت ہے۔ جو ماں اور باپ چاہتے ہیں، وہ حقیقی چاہت ہے۔
اور جو ہم خود چاہتے ہیں، وہ دعائیہ ہے۔ جو شاگرد چاہتا ہے، وہ بھی دعائیہ ہے، وہ عبادتی ہے، وہ شکر گزاری ہے۔
اَفَلَا اَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
یہ شکر گزاری، آج پر ہے۔
لیکن حقیقی چاہت پر شکر گزاری یہ ہے کہ جب اس کی چاہت پوری ہوتی ہے تو جو کچھ پورا ہوتا ہے، وہ مکمل طور پر اسی کی چاہت ہوتی ہے، اور ہماری طرف سے بس اس پر شکر گزاری ہے۔
کوئی بات نہیں، ہوتے ہوتے ہو جائے گا اِن شاء اللہ تعالیٰ۔ ہوتے ہوتے ہو جائے گا۔
یہ عاجز نے جو دعا کی ہے، اس میں اپنی کوئی چاہت ہوتی ہے ہی نہیں۔ بس یہ کہا جاتا ہے کہ آپ سائیں جی کی چاہتوں پر آمین ثم آمین کہیں۔ میری، ہمارے ہاتھ کی تو کوئی چاہت ہے ہی نہیں۔
بیچ میں جو آپ نے باریک سی چاہت کی ہے نا، ویسی ہی عاجز کی چاہت ہے۔ اور یہ کس کی چاہت پر ہے؟ اس ایک حقیقی چاہت پر، جو اللہ پروردگار اپنے بندوں کے بارے میں کرتا ہے۔
اللہ کی اس ایک حقیقی چاہت پر ہم سب نے آمین ثم آمین عرض کیا ہے۔ اور آپ بھی ماشاء اللہ اسی باریک سی چاہت میں وہاں سے آئے ہوئے ہیں، یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ بس ہم آپ کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں، اسی لیے یہ دعوت دی گئی ہے۔
جیسے جو منگتیاں ہوتی ہیں نا، ان میں سے کسی ایک کو کہیں سے مل جاتا ہے تو وہ اپنی ساری منگتیاں، اپنی سہیلیاں، سب کو آواز دے دیتی ہیں:
آؤ آؤ، یہاں تمہارا مقصود موجود ہے۔
پھر دیکھو کتنی ساری وہ سب وہاں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔
بھئی ہمارا حال بھی ویسے منگتوں جیسا ہی ہے۔
جیتے رہو، اللہ آپ سب کو خوش رکھے۔
جناب اللہ پاک، آپ کی خوشیوں سے ہمیں خوش ہونے پر بھی خوش ہو جاتا ہے۔
اللہ تیرا شکر ہے۔
والسلام
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں