بیان بعد نمازِ عشاء
مورخہ 23 دسمبر 2025
مفہوم از: عبدالرحمان
اللہ کی چاہت رکھنے والا انسان دو حالوں میں ہوتا ہے: یا تو وہ اللہ کا دوست بن جاتا ہے، یا پھر اس راستے پر چلتے چلتے اللہ کا بندہ بن جاتا ہے۔ اللہ کا دوست، یعنی اللہ کا ولی، وہ ہوتا ہے جو اپنے اللہ کو اپنا دوست بناتا ہے اوروہ سارے کام کرتا ہے جس میں اللہ سبحان و تعالیٰ اسے اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ وہ اللہ کو دوست بناتا ہےاور اللہ اس کا دوست ہو جاتا ہے۔
دوسرا وہ ہوتا ہے جو اللہ سبحان وتعالیٰ کا بندہ ہو جاتا ہے۔ یہ اللہ کا بندہ وہ ہے جسے اللہ پروردگار اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے ایک واضح مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺ کی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں، وہ وہ تمام کام کرتے ہیں جن سے اللہ راضی ہوتا ہے۔ جبکہ اللہ سبحان و تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کے معاملے میں وہ کرتا ہے جس میں اس کے حبیب کی رضا شامل ہوتی ہے، اور اللہ کے حبیب ﷺ بھی ہر وہی اختیار کرتے ہیں جو اللہ کی رضا کے مطابق ہوتا ہے۔
فرمایا: *واذکر اللہ*، یعنی اللہ کو یاد رکھنا۔ اللہ کو یاد رکھنا ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا، بلکہ وہی نصیب والا ہوتا ہے جو اس حقیقت کو پہچان لے۔ یہ یاد محض زبان کی نہیں، بلکہ اس وقت کی ہے جب بندے کو خود معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ اس کے ساتھ ہے، مگر اللہ ہر حال میں اس کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اسی لمحے کو یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
جیسے فرمایا: *یا بنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم*، یعنی اس وقت کو یاد کرو جب میں نے تم پر اپنی نعمتیں نازل کیں۔ حالانکہ وقت تو اللہ پروردگار ہر ایک پر گزارتا ہے، مگر ہر وقت ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ اوقات وہ ہوتے ہیں جن میں اللہ کا عذاب ظاہر ہوتا ہے، اور کچھ وہ ہوتے ہیں جن میں اللہ سبحان و تعالیٰ کی رحمت، مہربانی اور نعمتوں کا نزول ہو رہا ہوتا ہے۔ یہی ان اوقات کا اصل فرق ہے، اور اسی فرق کو سمجھنے کے لیے اللہ کو یاد رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اسی طرح جہاں تم میری مخلوق ہو رہے تھے، میں اپنی مخلوق کو پیدا فرما رہا تھا، تم ہو رہے تھے، اس وقت میں تمہارے ساتھ تھا، تمہیں پتا نہیں تھا۔ استاد جب تمہیں اپنا شاگرد بنا رہا تھا، استاد کو پتا تھا، تمہیں پتا نہیں تھا۔ امی ابا کو پتا تھا، تمہیں پتا نہیں تھا۔ اسی طرح اولاد کے بارے میں، بیوی اور شوہر کو پتا تھا، اولاد کو پتا نہیں تھا۔
فرمایا: واذکر اللہ، اللہ کو یاد رکھنا، جہاں ان کو پتا تھا اور تمہیں پتا نہیں تھا۔ جب تک کوئی یہ یاد نہیں رکھتا، اسے کیا پتا کہ فکر کیا ہوتی ہے۔ دو باتیں عرض کی ہیں: ایک وہ اللہ کو اپنا دوست بناتا ہے، ایک وہ نبی رسول کو اپنا دوست بناتا ہے، ایک وہ اپنے استاد کو اپنا دوست بناتا ہے، اور ایک وہ ماں باپ کو اپنا دوست بناتا ہے۔ وہ سارے کام وہی کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے، جو اللہ کا نبی چاہتا ہے، جو استاد چاہتا ہے، اور جو ماں باپ چاہتے ہیں۔
جبکہ دوسرا وہ ہے جسے اللہ اپنا دوست بناتا ہے، اللہ کا نبی اسے اپنا دوست بناتا ہے، استاد اسے اپنا دوست بناتا ہے، ماں باپ اسے اپنا دوست بناتے ہیں۔ وہ کون ہوتے ہیں؟ جو سارا کچھ وہی کرتے ہیں کہ ہمارے بڑے راضی ہو جائیں، اور بڑے بھی سارا کچھ وہی کرتے ہیں کہ یہ ہمارے چھوٹے راضی ہو جائیں۔ فرق ہے۔ یہ فرق کوئی نصیب والا ہی کرتا ہے۔
گدھا اور گھوڑا دونوں آواز نکالتے ہیں، لیکن گھوڑے کی آواز اور گدھے کی آواز میں فرق کوئی سمجھدار ہی کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ گھوڑا ہنہنا رہا ہے اور یہ گدھا ہے جو ڈھینچوں ڈھینچوں کر رہا ہے۔
فرمایا: واذکر اللہ کثیراً لعلکم تفلحون۔ اگر تم ذکر کثرت سے کرو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے۔ ذکر کثرت سے یہ ہے کہ اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تمہارے ساتھ تھا اور تمہیں پتا نہیں تھا، جب نبی رسول تمہارے ساتھ تھا اور تمہیں پتا نہیں تھا، جب استاد تمہارے ساتھ تھا اور تمہیں پتا نہیں تھا، جب ماں تمہارے ساتھ تھی اور تمہیں پتا نہیں تھا، جب باپ تمہارے ساتھ تھا اور تمہیں پتا نہیں تھا۔ وہ وقت یاد کرو۔ یہی وہ ذکر ہے جو کثرت سے کیا جاتا ہے۔
یہ کیوں یاد کروایا گیا ہے؟ کیا اس سے اللہ کے درجات بلند ہو جاتے ہیں؟ کیا اس سے استاد کے درجات بلند ہو جاتے ہیں؟ کیا اس سے ماں باپ کے درجات بلند ہو جاتے ہیں؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ بات صرف یہ ہوتی ہے کہ اس وقت کو یاد کرنے سے ہم وہ بن جاتے ہیں جو اللہ دیکھنا چاہتا ہے۔ اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ یہ میرا بندہ ہو، تو ہم اللہ کے بندے ہو جاتے ہیں۔ استاد دیکھنا چاہتا ہے کہ یہ استاد بن جائے، تو وہ استاد بن جاتا ہے۔ ماں دیکھنا چاہتی ہے کہ یہ میری بیٹی ماں بن جائے، تو وہ ماں بن جاتی ہے۔ باپ دیکھنا چاہتا ہے کہ یہ میرا بیٹا باپ بن جائے، تو وہ باپ بن جاتا ہے۔
اور اگر واذکر اللہ کے تحت کوئی اس وقت کو یاد نہیں کرتا جب اللہ دیکھ رہا ہوتا ہے اور یہ نہیں دیکھ رہا ہوتا، جب استاد دیکھ رہا ہوتا ہے اور یہ نہیں دیکھ رہا ہوتا، جب ماں باپ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور یہ نہیں دیکھ رہا ہوتا، تو یہ رہ جاتا ہے۔ اللہ پروردگار کی جو چاہت ہوتی ہے، اس کا اسے پتا ہی نہیں چلتا کہ اللہ کی چاہت کیا تھی، جب وہ مجھے دیکھ رہا تھا اور میں اسے نہیں دیکھ رہا تھا۔
اللہ کی چاہت یہ تھی کہ یہ میرا بندہ بن جائے۔ استاد کی چاہت یہ تھی کہ یہ میرا شاگرد، ایک دن استاد بن جائے۔ ماں کی چاہت یہ تھی کہ یہ میری بیٹی ایک دن ماں بن جائے۔ باپ کی چاہت یہ تھی کہ یہ میرا بیٹا ایک دن باپ بن جائے۔ واذکر اللہ میں جب کوئی اللہ کو یاد کرتا ہے تو اللہ سبحان و تعالیٰ اسے اپنی چاہت کا پتا دے دیتا ہے۔ پھر جب وہ اللہ کا بندہ نہیں بن رہا ہوتا تو اسے فکر پڑ جاتی ہے۔ جب وہ استاد کے ساتھ رہتا ہے اور استاد نہیں بنتا تو اسے فکر پڑ جاتی ہے۔ بیٹی ماں نہیں بنتی، شادی کے بعد اسے فکر پڑ جاتی ہے۔ بیٹا باپ نہیں بنتا، شادی کے بعد اسے فکر پڑ جاتی ہے کہ رہ گیا، باپ نہیں ہوا۔
فرمایا: الذین یذکرون اللہ قیاماً و قعوداً و علی جنوبہم و یتفکرون۔ جب میرا بندہ اس وقت کو یاد رکھتا ہے، کھڑے بھی، بیٹھے بھی، اور پہلو کے بل سوتے بھی، تو پھر وہ میری چاہت بن جاتا ہے۔ وہ اپنے استاد کی چاہت بن جاتا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کی چاہت بن جاتا ہے۔ وہی بات جو بتائی گئی تھی: باپ چاہتا ہے کہ یہ باپ بنے، ماں چاہتی ہے کہ یہ ماں بنے، استاد چاہتا ہے کہ یہ استاد بنے، اور اللہ چاہتا ہے کہ یہ میرا بندہ بن جائے تاکہ میں اس سے محبت کروں۔
فرمایا: ویتفکرون فی خلق السموات، پھر وہ زمین اور آسمان کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں۔ جب میں پیدا ہو رہا تھا، مجھے کون دیکھ رہا تھا؟ جب میں استاد ہو رہا تھا، مجھے کون دیکھ رہا تھا؟ جب میں امی جان اور ابا جان ہو رہا تھا، مجھے کون دیکھ رہا تھا؟ اگر اللہ نہ دیکھ رہا ہو تو کیا کوئی اللہ کا بندہ ہو سکتا ہے؟ لیبلوکم ایکم احسن عملاً، اللہ فرماتا ہے کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں۔ اللہ بھی دیکھتا ہے، استاد بھی دیکھتا ہے، امی بھی دیکھتی ہے، ابا بھی دیکھتا ہے۔
پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ یہ بن گیا ہے، تو وہ اللہ کا بندہ بن جاتا ہے۔ وہ شاگرد استاد بن جاتا ہے۔ وہ بیٹی ماں بن جاتی ہے، اور وہ بیٹا باپ بن جاتا ہے۔ فرمایا: واذکر اللہ، اس وقت کو یاد رکھنا۔ کثیراً، کثرت سے، بھول نہ جانا۔ کھانا کھاتے ہوئے بھی یاد رکھنا، پانی پیتے ہوئے بھی یاد رکھنا، لیٹتے بھی یاد رکھنا، جیتے جی زندگی گزارنا تب بھی یاد رکھنا، اور اگر موت آ جائے تو بھی یاد رکھنا۔ پھر یہ ہو گا کہ لعلکم تفلحون، تم کامیاب ہو جاؤ گے۔
کامیابی بتا دی گئی ہے۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کو ہر حال میں یاد رکھتے ہیں، اور دوسرا یہ کہ ویتفکرون فی خلق السموات، زمینوں اور آسمانوں کی تخلیق میں فکر کرتے ہیں۔ پھر جب اپنی تخلیق میں فکر کرتے ہیں تو اپنی تخلیق میں انہیں اپنا پیدا کرنے والا اللہ ساتھ نظر آتا ہے، اور تعلیم اور تزکیہ میں اپنا استاد ساتھ نظر آتا ہے۔ پھر بیٹی اور بیٹے کو اپنی امی اور اپنا ابا ساتھ نظر آتا ہے۔ جب وہ ساتھ ہوتے ہیں تو پھر ان کی چاہت بھی نظر آتی ہے۔
پھر بیٹی ماں بن جاتی ہے، بیٹا باپ بن جاتا ہے، شاگرد استاد بن جاتا ہے، اور اللہ کا ولی اللہ کا بندہ بن جاتا ہے۔ یہ ہے واذکر اللہ۔ ہم نے نہیں پتا واذکر اللہ کو کیا سمجھ رکھا ہے، اور جو سمجھ رکھا ہے اسی کو مان لیا ہے۔ کیا یہی ہمارا دین ہے؟ دین ہماری سمجھ میں نہیں آتا، بلکہ ہماری سمجھ کو بڑا کرتا ہے۔ علم کسی کی سمجھ میں نہیں آتا، بلکہ اسے بڑا کرتا ہے۔ جیسے ماں باپ بچے میں نہیں آ جاتے بلکہ بچے کو بڑا کرتے ہیں۔
کبھی نہیں سنا، کبھی نہیں جانا۔ اگر کسی نے سنا ہے، اگر کسی نے جانا ہے، تو اس نے واذکر اللہ میں اپنے اللہ کو یاد رکھا ہے۔ اللہ کو یاد رکھا کرو۔ اللہ کی یاد ایسے ویسے نہیں ہوتی کہ بیٹھ گئے اور زبان سے اللہ کو یاد کرنے لگے۔ کیا زبان سے اللہ کو یاد کیا جا سکتا ہے؟ اللہ نے تجھے اپنا بندہ بنایا، انسان بنایا، بال دیے، کھال دی، کیا کچھ نعمتیں دیں۔ تو زبان سے اللہ کو یاد کرتا ہے؟ تو زندگی میں اللہ کو یاد کرتا ہے تو کیا موت کے بعد اللہ کا نہیں رہتا؟
سارا کچھ تو تیرے اللہ رب العالمین کے لیے ہونا تھا۔ پھر ایک عمل میں تو اللہ کو یاد کرتا ہے اور دوسرے عمل میں ادھر ادھر دیکھتا ہے؟ ادھر ادھر کچھ نہیں ہے۔ جدھر اللہ بول رہا ہے، ادھر ہی سب کچھ ہے۔ وحی میں نبی بول رہا ہوتا ہے لیکن بول اللہ رہا ہوتا ہے۔ قاری قرآن پڑھ رہا ہوتا ہے لیکن بول اللہ رہا ہوتا ہے۔ عابد نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، وہاں بول کون رہا ہوتا ہے؟ سن کون رہا ہوتا ہے؟ اللہ۔
اسی طرح اللہ اپنا بندہ بناتا ہے۔ شیطان کو جب اللہ نے حکم دیا کہ میرے بندے کو سجدہ کرے، تو اللہ کی چاہت یہ تھی کہ وہ مرید بن جائے اور میرا بندہ اس کا پیر، اس کا استاد بن جائے۔ یہ استاد بھیجے گئے ہیں۔ نبی رسولوں کو استاد کہا جاتا ہے۔ نبی رسول ﷺ آخری نبی ہیں، ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ فرمایا: میرے بعد میرے خلفا استاد ہوں گے۔
جس نے کوئی استاد نہیں پکڑا، خدا کی قسم سچی بات ہے، جیسے امی ابا کے بغیر کوئی دنیا میں نہیں آتا۔ اگر کسی نے زنا کیا اور اس کے نتیجے میں کوئی ولد الزنا دنیا میں آ گیا تو اس کا قصور نہیں، قصور ان ماں باپ کا ہے جنہوں نے یہ کیا۔ ماں باپ کے بغیر اللہ کی چاہت پوری نہیں ہوئی۔ جس اولاد میں اللہ کی چاہت پوری ہوئی، اس کے ماں باپ نے نکاح کیا۔ یہ اللہ کی چاہتیں اللہ کا بندہ ہی بتا سکتا ہے، اور پھر اللہ کا بندہ ہی ان چاہتوں پر کسی کو لگا سکتا ہے۔
دوسرا کوئی لگا ہی نہیں سکتا، کیونکہ اس کے پاس وہ پٹرول ہی نہیں ہوتا۔ وہ تیل ہی نہیں ہوتا جو کسی کا دیا روشن کر سکے۔ وہ پیٹرول ہی نہیں ہوتا جو کسی کی گاڑی کو سٹارٹ کر کے اسے منزل مقصود تک پہنچنے کے قابل کر سکے۔ آپ لاکھ بڑی سے بڑی گاڑی لے آئیں، جب کسی کے پاس پٹرول نہیں ہے تووہ تو گاڑی سٹارٹ بھی نہیں کر سکتا منزل مقصود تک پہنچانا تو بہت دور کی بات ہے۔ یہ تو اللہ کے بندے ہی ہوتے ہیں جن کے پاس سارا اللہ کا عطاء کیا سازوسامان موجود ہوتا ہے۔ گاڑی تو کیا بڑے سے بڑا بحری یا ہوائی جہاز تک ہی کیوں نا ہو یہ اس کو بھی بحری موجوں کی طغیانی اور ہوائی جھونکھوں سے بحفاظت نکال کر منزل مقصود تک پہنچا دیتے ہیں۔ بے شک یہ تو اللہ کے بندے ہی ہیں جو اللہ کا بندہ بناتے ہیں۔
وما توفیقی الا باللہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں