نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اللہ سے مانگنا اور اللہ سے ہی لینا

بیان بعد نمازِ عشاء — 24 دسمبر 2025

ارشادِ پاک ہے کہ منافق وہ لوگ ہیں جو اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں: یخادعون اللہ والذین آمنوا۔ یعنی وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں، لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ کوئی اللہ کو دھوکہ دے سکتا ہو یا کوئی اللہ کا دوست ہو، اللہ کا ساتھی ہو، اور کوئی اسے دھوکہ دینے کے قابل ہو۔  دراصل یہ منافقین اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مانگتے تو اللہ سے ہیں لیکن لیتے کسی اور سے ہیں۔


اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے منافقو! تم مانگتے تو مجھ سے ہو، مگر جب لیتے دوسروں سے ہو تو کیا دوسروں کو معلوم نہیں ہو جاتا کہ تم مانگ کر اللہ سے آئے ہو اور لے ان سے رہے ہو؟ اور جو لوگ اللہ سے مانگ کر اللہ ہی سے لیتے ہیں، کیا انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ جو اللہ سے مانگا جائے وہی عطا ہوتا ہے؟ جبکہ منافقوں نے آج تک اللہ سے مانگ کر اللہ سے پایا ہی نہیں، کیونکہ اللہ سے مانگ کر وہ جن سے جا کر لیتے ہیں ان کے پاس خود دینے کو کچھ نہیں ہوتا، تو وہ کہاں سے دیں گے؟

سب سے یہ  جاننا ضروری ہے کہ منافق کی پہچان کیا ہے؟

 منافق وہ ہے جو بات کرے تو جھوٹ بولے۔ اس کا معاملہ مخلوق کے ساتھ ہوتا ہے، اور مخلوق خود بتا دیتی ہے کہ یہ جھوٹا ہے۔ سب کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ سچا نہیں۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ اگر اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے، اور امانت والا فوراً جان لیتا ہے کہ اس کی امانت میں خیانت ہوئی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ وہ وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔ لوگوں کو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس نے وعدہ کیا تھا مگر پورا نہیں کیا۔

چوتھی بات یہ فرمایا کہ جب وہ بولے گا بدکلامی کرے گا۔ جب وہ امی سے بولا تو  کیا امی کو   پتا نہیں چل گیا کہ یہ بدکلامی کر رہا ہے۔ اسی طرح ابا کو  کیا نہیں پتا چلا کہ یہ بد کلامی کر رہا ہے؟ اسی طرح ہمیں آپ کو بھی پتا ہو جاتا ہے کہ فلاں بدکلامی کر رہا ہے۔  لیکن یہ بدکلام منافق جب اپنوں میں جا کے بدکلامی کرتا ہے تو جو اس جیسے اس کے اپنے ہوتے ہیں وہ خود بدکلامی کرتے ہیں۔ یہ ایک گالی دیتا ہے تو وہ اسے آگے سے سو گالیاں دیتے ہیں۔ اتنی گالم گلوچ کے باوجود انہیں اس کی خبر ہی نہیں ہوتی کہ وہ گالیاں دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں ہمیں پتا ہی ںہیں چلا کہ ہم نے کوئی گالی دی ہے یا کوئی بدکلامی کی ہے۔


یہ تو اللہ کا بندہ ہی ہے جو بتائے گا کہ یہ بدکلامی ہے۔ اللہ کا بندہ کبھی بدکلامی نہیں کرتا اور  نا ہی اللہ اس سے بدکلامی بدبو کروانا چاہتا ہے اور نا ہی وہ آگے بدبوئیں پھلانا چاہتا ہے۔ اس کے پاس تو خوشبو ہی خوشبو ہوتی ہے۔ یہ خوشبوئیں تو مومن کے پاس ہیں۔ اللہ کے بندے کے پاس ہیں۔ 

اب بھلا وہ منافق کس طرح اللہ کے بندے کو دھوکا دے گا؟ وہ سمجھے گا بھی کہ وہ اللہ کے بندے کو دھوکہ دے رہا ہے لیکن اللہ کا بندہ فوراً جان جائے گا اب یہ اپنےتئیں جو اللہ کے بندے کو دھوکہ دے رہا ہے یہ درحقیقت اسے خود کو ہی دھوکہ ہو رہا ہوتا ہے اور اس طرح یہ اپنے آپ کو ہی دھوکہ دے رہا ہوتا ہے۔ 

فرمایا جس میں یہ چار خصلتیں ہیں اس میں شک ہی کوئی نہیں رہ جاتا کے وہ خالص منافق ہے۔ جس نے کلمہ تو اللہ کا پڑھا ہے لیکن باتیں کسی اور کی مانی ہیں۔ مانگا تو اللہ سے ہے لیکن جب لینے کی باری آئی تو اللہ سے لینے کی بجائے لیا غیروں سے ہے، اللہ سے نہیں لیا؛ اللہ کے بندوں سے نہیں لیا۔ اللہ کے بندوں کو تو وہ دھوکہ دے رہا ہے۔ اللہ کو تو وہ دھوکہ دے رہا ہے۔ اللہ کے بندے تو تب دھوکہ میں آئیں جب وہ اس سے مانگیں اور اس سے لے لیں۔ وہ تو نا ہی اس سے مانگتے ہیں نا ہی اس سے لیتے ہیں۔  

فرمایا گیا کہ خالص منافق کو جہنم کی اتاہ گہرائیوں میں عذاب دیا جائے گا۔ لیکن جس کسی میں ان میں سے ابھی کوئی ایک خلصت ہو ، ہو گا تو وہ بھی منافق ہی لیکن اسے حکمی منافق کہا جائے گا۔ جو ابھی چھوٹا منافق ہے اور اگر کسی اللہ کے بندے کے ہاتھ توبہ نہیں کرتا تو اس کا انجام بھی منافقین کے ساتھ جہنم میں ہو گا۔ 

یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ فرماتا ہے: جو مجھ سے مانگتا ہے میں اسے غنی کر دیتا ہوں۔ منافق مانگتا اللہ سے ہے مگر لیتا غیر خدا سے ہے۔ اس نے جو اپنے خدا بنائے ہوتے ہیں، ان سے جا جا کر لیتا ہے۔ ان کے پاس لعنت اور ناپاکی ہوتی ہے۔ لیکن جب کوئی اللہ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے دیتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہوتا۔ 

اللہ کے دینے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ سبحان و تعالیٰ جب دیتا ہے تو اپنا حکم دیتا ہے کہ تم ایسے کرو، تمہیں عطا ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ سے مانگنے والا جب اللہ سے مانگتا ہے تو دعا مانگتا ہے کہ اے اللہ! مجھے مغفرت دے۔ یہ دعا درخواست کی جا رہی ہوتی ہے کہ اے اللہ! مجھے یہ دے، مجھے وہ دے، اللہ میری بخشش فرما، اے اللہ! مجھے دنیا کی آسودگی دے۔ لیکن یہ درخواست ہے، حکم نہیں ہے۔ 

پھر اللہ اس کی درخواست قبول فرما لیتا ہے۔ پھر اسے حکم دیتا ہے کہ تجھے اتنے دن کی میں نے چھٹیاں دے دی ہیں، تجھے اتنے دن کا کوٹہ دے دیا ہے، اتنے دن کی زندگی دے دی ہے۔ اب میں نے تیری درخواست قبول کر لی ہے، اب حکم میں نے پاس کر دیا ہے، اب یہ سارا کچھ تجھے مل جائے گا۔

اب اگر اللہ کا کوئی مومن بندہ ہوتا ہے تو اللہ نے اسے جو حکم دیا ہوتا ہے، وہ جب پورا کرتا ہے تو جا کر وہ اپنی درخواست جدھر سے وہ چیز لینی ہوتی ہے، ادھر جا کر دے دیتا ہے پھر چیزیں پہنچنا شروع ہو جاتی ہیں۔ 

اب لینے کا طریقہ یہ ہے کہ جدھر جدھر حکم ماننے کا آیا ہے، کہ اللہ کا حکم مانو، اللہ کے نبی کا حکم مانو، اپنے سائیں جی کا حکم مانو، اپنے ماں باپ کا حکم مانو، بیوی  اپنے شوہر کا حکم مانو۔ یہ جدھر جدھر حکم ماننے کا آیا ہے، ادھر سے جب اللہ حکم ان کو دے گا تو یہ آگے سے درخواست میں جو اللہ کا حکم ہے وہ پڑھیں گے تو یہ وہ تمہیں سارا کچھ عطا کر دیں گے۔

جہاں اللہ کے نبی ﷺ کو حکم موصول ہوتا ہے، وہاں وہ اللہ کے دیے ہوئے حکم کے مطابق تقسیم فرما دیتے ہیں۔ جہاں سائیں جی کو حکم آتا ہے، وہ بھی اللہ کی طرف سے بھیجے گئے اسی حکم کو آپ تک پہنچا دیتے ہیں۔ اور جہاں ماں باپ کو یہ حکم ملتا ہے، وہ اپنی اولاد کو دے دیتے ہیں۔ اسی طرح جب شوہر کو حکم دیا جاتا ہے تو وہ بیوی تک پہنچا دیتا ہے۔

یہ حکم ماننا پڑتا ہے اور اس حکم ماننے کا مفہوم یہی ہے کہ مانگا بھی اللہ سے جاتا ہے اور لیا بھی اللہ ہی سے جاتا ہے، اگرچہ عطا مختلف ذریعوں کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔

مومن بندہ اللہ کے حکم کو پورا کرتا ہے، پھر جس طرف اللہ بھیجتا ہے وہاں جا کر اپنی درخواست رکھتا ہے اور نعمتیں پہنچنا شروع ہو جاتی ہیں۔ حکم ماننے کا مطلب یہی ہے کہ مانگا بھی اللہ سے جائے اور لیا بھی اللہ سے جائے، چاہے وسیلہ اللہ کے نبی ﷺ ہوں، اللہ کے بندے ہوں، والدین ہوں یا کوئی اور ذریعہ۔

جو شخص اللہ سے مانگ کر کسی اور سے جا کر لے، وہ ذلیل منافق ہے۔ یہی کام سب سے پہلے شیطان نے کیا۔ اس نے زندگی اللہ سے مانگی، مگر اللہ کے حکم پر عمل نہ کیا۔ اور یہی کام یہ شیطان کا پیروکار منافق کرتا ہے۔ وہ اپنی وہی زندگی، جو اللہ سے لے کر آیا ہوتا ہے، اسی زندگی کے سہارے اپنے آپ کو بچاتا رہتا ہے۔ اللہ کے حکم میں جو زندگی اللہ عطا کرتا ہے، وہ اسے قبول نہیں کرتا۔ 

اللہ کا ارشادِ پاک ہے کہ جو میرے حکم کے تحت جا کر اپنی زندگی قربان کرتا ہے، وہ یا تو شہید ہوتا ہے یا غازی بنتا ہے، اور میں اسے پھر ابدی زندگی عطا فرماتا ہوں۔ مگر یہ شخص اللہ سے وہ زندگی لے ہی نہیں رہا۔اللہ سے زندگی مانگ لی ہوتی ہے اور اللہ نے آرڈر جاری فرما دئے ہوتے ہیں کہ عزرائیل علیہ السلام اس کی روح قبض نہ کریں۔ عزرائیل علیہ السلام کے پاس جب یہ آرڈر پہنچتا ہے تو وہ اس آرڈر کے تحت اس کی روح قبض نہیں کرتے۔

   اب یہ زندگی جو اس نے اللہ سے مانگی ہوتی ہے یہ جب اللہ ہی سے لینے کا وقت آتا ہے جہاں اللہ اسے وہاں پہنچاتا ہے جہاں سے یہ زندگی جو اس نے مانگی ہے اسے ملنی ہے کہ اللہ تو ابدی زندگی عطاء فرماتا ہے لیکن ابدی زندگی لینے اللہ کے بندے کے حضور پیش ہونا ہوتا ہے جہاں سے اسے اللہ کے حکم میں اپنی جان مال پیش کرنا ہوتا ہے یہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ اپنی عارضی زندگی سے اپنی زندگی بچانے میں لگ جاتا ہے۔ حالانکہ یہ زندگی جو اللہ نے اسے دی تھی اسے بچانا یا اسے گنوانا بھی اللہ کے حکم میں ہی تھا۔ جہاں اللہ اسے اپنی جان مال لے کر پہنچنے کا حکم دیتا اسے وہاں پہنچ کر اپنا جان مال پیش کرنا تھا پھر اللہ اسے شہید کرتا یا غازی کر کے بھیج دیتا۔ دونوں ہی صورتوں میں اعلیٰ و ارفع زندگی اسے مل جاتی۔ 

    لیکن اس نے اس کو قبول نا کیا بلکہ شیطان کی طرح بھگوڑا ہو گیا اور اب قیامت تک بھاگتا ہی ہے۔ یہ جو وقتی مہلت اسے ملی تھی جو اس نے اللہ سے مانگی تھی جس کے آرڈر پاس ہوئے تھے، اس کی رخصت منظور ہوئی تھی، اب یہ اسی رخصت کا فائدہ اٹھا کر اپنی زندگی کو بچاتا پھر رہا ہے بھاگتا پھر رہا ہے اور سمجھتا یہ ہے کہ میں اللہ کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ دیکھئے یہ کتنا بڑا دھوکہ ہے جو یہ خود کو دے رہا ہے۔ اللہ والا فوراً یہ جان جاتا ہے کہ کیسے یہ سمجھ یہ رہا ہے کہ یہ اللہ کو اللہ کے بندوں کو دھوکہ دے رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ اس کا خود کو کتنا بڑا دھوکہ دینا ہے۔ لیکن یہ منافق اسے نہیں سمجھ پاتا نا ہی جان پاتا ہے۔ 

چاہئے تو اسے یہ تھا کہ ابدی زندگی وہ اپنی اسی دنیاوی زندگی کے بدلے لیتا جو اللہ سے لے کر آیا تھا، بشرطیکہ وہ زندگی بشرطیکہ وہ زندگی دوبارہ اللہ کے حکم کے مطابق اللہ ہی سے لے۔ یہی وہ مقام ہے جو صحابۂ کرامؓ اور اللہ کے بندوں نے حاصل کیا کہ زندگی بھی اللہ سے حکم کے تحت لے کر آئے، اور پھر آگے وہ زندگی نبی اکرم ﷺ سے لی، اپنے سائیں جی سے لی، اور اپنے ماں باپ سے لی ہے۔ 

پھر جب ان سے زندگی لی ہے تو ان کا حکم مانا ہے کہ جاؤ میدان جنگ میں یا شہید ہو جاؤ یا غازی ہو کر واپس آ جاؤ۔ اب انہوں نے زندگی ایسی دی ہے کہ شہید ہو کر اللہ کے پاس چلے گئے تو ابدی زندگی مل گئی۔ غازی ہو کے آ گئے تو اللہ نے انہیں قبول کر لیا۔ یہ ہے جو اللہ سے مانگتا ہے پھر لیتا بھی اللہ سے ہی ہے۔ 

لیکن جو ایسا نہیں کرتا بلکہ اپنی زندگی جہاں پیش کرنے کا حکم آتا ہے وہاں اپنی زندگی بچانے لگ جاتا ہے اور جہاں اپنی زندگی بچانے کا حکم آتا ہے وہاں خود کشی کر لیتا ہے یہ وہ ہے جس نے مانگا تو اللہ سے ہے لیکن لیا زندگی سے ہی زندگی کو ہے۔ یہ جو اپنی زندگی بچاتا پھر رہا ہے اسے نہیں پتا کہ یہ اپنی زندگی نہیں بچا رہا بلکہ یہ اس کی مہلت جو اللہ نے اسے دی ہوئی ہے اس مہلت میں جو اسے زندگی ملی ہوئی ہے یہ اس مہلت کے تحت اس کی زندگی ہی اس کی زندگی بچا رہی ہے ورنہ قسم خدا کی اگر یہ مہلت ختم ہو چکی ہوتی جو اللہ نے اس کی رخصت قبول کی ہوئی ہے تو  عزرائیل علیہ السلام اسی وقت پہنچ جاتے جب اس کی زندگی ختم ہو جاتی۔ یہ کسی طرح بھی اسے بچا نا پاتا۔ 

آئیں اس بات کو اچھے سے جان لیں کہ اللہ اسی وقت دینا شروع کر دیتا ہے جب کوئی اللہ سےمانگتا ہے۔ ہمیں یہ بات جاننا چاہئے کہ اللہ کیسے دیتا ہے؟ جب آپ اللہ پروردگار سے کوئی دعا کرتے ہیں تو پھر اللہ سبحان وتعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے۔ آپ نے وہ حکم لے کر اس کے پاس چلے جانا ہے جس کو اللہ پاک وہ حکم دیا ہے۔ 

آپ نے مانگا کہ اے اللہ میرے دل کو پاک و صاف کر دے۔ میرے دماغ کو اللہ والا بنا دے، منور کر دے۔ میری زبان کو پاک کر دے۔ اللہ مجھ سے منافقت کی تمام علامتیں نکال دے۔ جب یہ اللہ پاک سے آپ نے دعا کی ہے ۔ تو اللہ پروردگار نے آپ کی دعا سن لی ہے۔ جو آپ نے مانگا ہے وہ اللہ نے عطاء فرما دیا ہے۔ اور فرمایا جاؤ میرے بندے کے پاس، میرے نبی رسول کے پاس چلے جاؤ۔

پھر جیسے ہی وہ نبی رسول کے پاس جاتا ہے اللہ کے نبی فرماتے ہیں کہ وضو کرو گے تو جسم پاک و صاف ہو جائے گا۔ ذکر کرو گے تو دل پاک و صاف ہو جائے گا۔ میری سنت پر عمل کرو گے ، دماغ پاک و صاف ہو جائے گا۔ میں جس طرح کہوں گا اس طرح زندگی گزارو گے تمہاری دنیا برکت والی پاک و صاف ہو جائے گی۔ جب تمہاری موت آئے گی ، موت اللہ کو راضی کرنے والی ہو جائے گی ۔  پھر وہ تعلیم دیتے ہیں۔ جیسے جیسے انہوں نے تعلیم دی ہوتی ہے ویسے ویسے آپ کو ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ 

جب تک کوئی اللہ کے بندے کے پاس نہیں جاتا ، اسے کیا پتا ، وہ آرڈر جاری فرما دیتا ہے اور بھیج اس کے پاس دیتا ہے جس نے وہ دینا ہوتا ہے۔ یہ ہیں وہ اللہ کے مراکز، وہ اللہ کی مساجدیں، یہ ہیں وہ اللہ کے بندے، یہ ہیں وہ اللہ کے ڈیپو جو اللہ نے اپنے بندوں کی صورت میں ، سیرت میں، حقیقت، رحمت، محبت میں کھولے ہوئے ہیں۔ 

یہ ہے وہ کہ مانگا بھی اللہ سے، اور ملا بھی اللہ سے۔ جب اللہ سے ملا تو آرڈر پاس ہو گیا۔ وہ آرڈر پاس ہونے کے بعد ہم ادھر جا پہنچتے ہیں جدھر سے ملنا تھا ادھر اللہ کا نبیﷺ ، ادھر سائیں جی، ادھر ماں باپ، ادھر شوہر بیوی، ادھر بچے سارا کچھ اکٹھے ہو گئے۔ یہ نوری گھرانہ ہے۔ 

انہوں نے مانگا بھی اللہ سے ہی ہوتا ہے اور انہیں دیتا بھی اللہ ہی ہے۔ یہ ہے وہ پڑھنا لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ جو اگلے پچھلے سارے گناہوں پر ایسی چھری چلا دیتا ہے کہ وہ بڑی بڑی نیکیوں میں بدل جاتے ہیں۔ کفر شرک انتہائی بڑا گناہ ہے۔ جو کبھی معاف نہیں ہوتا۔ ہمیشہ بندہ جہنمی ہو جاتا ہے۔ لیکن جب وہ اللہ سبحان وتعالیٰ کو مان لیتا ہے ، ایمان لاتا ہے، تو کفر شرک مٹ جاتا ہے اور اس کی جگہ ایمان آ جاتا ہے۔ وہ نیکی میں بدل جاتا ہے۔ 

 ایمان انتہائی بڑی نیکی ہے۔ کفر شرک جو انتہائی بڑا گناہ تھا وہ مٹ گیا اور اس کے بدلے انتہائی اونچی نیکی ایمان مل گیا ہے۔ 

یہ ہیں وہ عطائیں جو اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے۔ جب بھی مانگو اپنے اللہ سے مانگو۔ اور جب بھی اللہ کے عطاء پاؤ تو اللہ کے بندے سے پاؤ۔ اللہ کے بندے وہ ہیں جن کی طرف اللہ ہمیں بھیج دیتا ہے۔ وہ اللہ کے بندے ہوتے ہیں۔ 
(وما توفیقی الا بااللہ)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ کا دوست یا اللہ کا بندہ

  بیان بعد نمازِ عشاء مورخہ 23 دسمبر  2025 مفہوم از: عبدالرحمان اللہ کی چاہت رکھنے والا انسان دو حالوں میں ہوتا ہے: یا تو وہ اللہ کا دوست بن جاتا ہے، یا پھر اس راستے پر چلتے چلتے اللہ کا بندہ بن جاتا ہے۔ اللہ کا دوست، یعنی اللہ کا ولی، وہ ہوتا ہے جو اپنے اللہ کو اپنا دوست بناتا ہے اوروہ سارے کام کرتا ہے جس میں اللہ سبحان و تعالیٰ اسے اپنا دوست بنا لیتا  ہے۔ یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ وہ اللہ کو دوست بناتا ہےاور اللہ اس کا دوست ہو جاتا ہے ۔

حقیقی چاہت اور دعائیہ چاہت میں فرق

 آڈیو سے مفہوم از: عبد الرحمن  اللہ اور اللہ کے بندے کی جو چاہت ہے یہ حقیقی چاہت ہے۔ یہ دعائیہ چاہت نہیں ہوتی کہ بس دعائیں مانگی جائیں کہ یا اللہ مجھے یہ کر دے، یا اللہ مجھے وہ بنا دے۔ یہ وہ چاہت بھی نہیں ہوتی کہ عبادت کے لیے دعا کی جائے کہ یا اللہ مجھے اپنا عابد بنا لے، مجھے تحجد گزار بنا لے۔ یہاں جو دعا ہوتی ہے، وہ کچھ اور ہوتی ہے۔ وہ دعا یہ ہوتی ہے: اَفَلَا اَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا کہ اللہ کی اس خاص مہربانی پر میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ یہ چاہت اپنی نہیں ہوتی، یہ حقیقی چاہت ہوتی ہے۔  حقیقی چاہت میں میری جو دعا ہوتی ہے وہ دعائیہ چاہت ہے۔ وہ عبادت کی اگر چاہت ہے تو وہ دعائیہ  چاہت ہے۔ اللہ کا بندہ بننے کی چاہت  ہے تو بھی یہ دعائیہ چاہت ہے۔ یہی وہ دعائی چاہت ہے۔  پھر ایک اللہ کی چاہت ہوتی ہے۔ جسے حقیقی چاہت ہم کہتے ہیں۔ آپ کو پتا ہے وہ حقیقی چاہت کیا ہے؟  حقیقی چاہت وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ بس یہ بات اگر دل میں بیٹھ جائے نا، تو سب کچھ سیدھا ہو جاتا ہے۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے ہیں، وہ حقیقی چاہت ہے۔ جو سائیں جی چاہتے ہیں، وہ حقیقی چا...