(آڈیو سے مفہوم از عبدالرحمان)
یہ اللہ تعالیٰ کی وہ خاص رحمتیں اور مہربانیاں ہیں جنہیں اگر بندہ جان لے تو یہ اس کے لیے بہت بڑی مہربانی ہے لیکن اگر بندہ ابھی اسے نہیں بھی جانتا تب بھی اللہ تعالیٰ اس پریہ رحمتیں ، مہربانیاں فرماتا ہی ہے تاکہ وہ اپنے محبوب کی محبت میں انہیں ایسے ہی جان جائے جیسے اللہ تعالیٰ خود اپنی محبت میں اپنی محبت کو جانتا ہے اور جیسے اللہ تعالیٰ کا بندہ اپنی محبت میں اپنی محبت
کو جانتا ہے۔
یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے علم — جب کوئی علم حاصل کرنے والااللہ کا بندہ جب علم حاصل کرتا ہے تو وہ علم، جو خود جانتا ہے، اسی حقیقت کو اس بندے پر منکشف کرتا ہے۔ یعنی بندہ اُس علم کے ذریعے وہی جان لیتا ہے جو علم خود جانتا ہے۔ اب جو بات بیان کی جانے لگی ہے، وہ اللہ سبحان و تعالیٰ اور اُس کے بندے کے درمیان انتہائی بلند درجے کی محبت سے متعلق ہے۔ ظاہری طور پر تو والدین سب اولاد سے محبت کرتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ سب سے یکساں محبت ہے، لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا۔ محبت سب سے ہوتی ہے، مگر درجے میں فرق ہوتا ہے۔ جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنی تمام اولاد سے محبت تھی، لیکن حضرت یوسف علیہ السلام سے ان کی محبت سب سے اعلیٰ اور گہری تھی۔اسی طرح اللہ سبحان وتعالیٰ اپنے تمام نبی رسولوں سے اونچی محبت کرتا ہے لیکن اس اونچی محبت میں انتہائی محبت جسے ہم کہہ سکتے ہیں وہ اللہ سبحان وتعالیٰ اپنے حبیب محمد ﷺ سے فرماتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خود فرمایا أنا حبیبُ اللہ— میں اللہ کا حبیب ہوں۔اب اگرچہ یہ ساری باتیں لفظوں میں بیان کی جا رہی ہیں کیونکہ یہ الفاظ ہی ہمارے پاس اظہار کا وسیلہ ہیں لیکن حقیقت یہ الفاظ نہیں ہوتے بلکہ اصل حقیقت تو وہی ہوتی ہے جو حقیقت میں حقیقت ہے۔
اسی طرح ہم نے لفظوں میں تو یہ بات سن رکھی ہے کہ ہدیہ تحفہ محبت میں دیا جاتا ہے ، مگر اس کی حقیقت بہت گہری ہے۔ جس طرح ایک محبت سب سے ہے ایک انتہائی محبت ہوتی ہے جو کسی خاص الخاص سے ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک ہدیہ عمومی محبت میں کسی کو دیا جاتا ہے اورایک ہدیہ انتہائی محبت میں اپنے اللہ کے حضور اللہ کے بندے کے حضور پیش کیا جاتا ہے۔ جب یہ انتہائی محبت میں ہدیہ تحفہ دیا جاتا ہے تو یہ دراصل *اللہ سبحان و تعالیٰ کی خدمت* ، او ر *اللہ کے بندے کی خدمت* ہوتا ہے۔ اب یہاں سمجھنا یہ ہے کہ خدمت عبادت نہیں، لیکن یہ تمام عبادات سے بلند ہے، جیسے محبت خود تو محبت ہی ہے مگر سب محبتوں سے اونچی بھی ایک محبت ہوتی ہے۔ اسی طرح خدمت بظاہر عبادت نہیں، لیکن حقیقت میں سب عبادات میں سب سے اعلیٰ درجہ رکھتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی خدمت اور اُس کے بندے کی خدمت۔ اور یہ خدمت دراصل ایک *ہدیہ* ہے جو محبت میں پیش کیا جاتا ہے، لیکن وہ خود محبت نہیں ہوتا — بلکہ محبت کے وسیلے سے پیش کیا گیا ایک نذرانہ ئ ہوتا ہے۔ یہ بات وہی سمجھ سکتا ہے جو اونچی محبت کو جان جاتا ہے اور اس اونچی محبت میں اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے بندے کی خدمت میں کوئی ہدیہ تحفہ پیش کرتا ہے۔
جب بندہ ہدیہ یا تحفہ پیش کرتا ہے تو وہ حقیقت کو سمجھ چکا ہوتا ہے۔ اسے یہ ادراک ہو جاتا ہے کہ اس نے وہی عمل کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ، اور اللہ تعالیٰ کے بندے نے اس کے ساتھ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انتہائی اونچی محبت میں اور اللہ کے بندے نے انتہائی اونچی محبت میں اسے محبت دی ہے۔ اس محبت میں اللہ سبحان وتعالیٰ نے اسے ہدیہ تحفہ دیا ہے۔ اب وہ ہدیہ تحفہ محبت میں پاتا ہے اور آگے سے وہ بھی محبت میں ہدیہ تحفہ دیتا ہے۔ جیسے اسے ہدیہ تحفہ ملا ہے وہ بھی آگے ہدیہ تحفہ ہی دیتا ہے۔ اب اللہ سبحان وتعالیٰ نے انتہائی محبت میں اس کی خدمت کی ہے اسے ہدیہ تحفہ دیا ہے۔ اس ہدیہ تحفہ میں وہ آگے ہدیہ تحفہ دیتا ہے۔
ایک اللہ سبحان وتعالیٰ اپنے بندے کو جان و مال دیتا ہے اور حکم ہوتا ہے“وَمِمَّا رَزَقْنَاھُمْ یُنْفِقُونَ” کہ اللہ کے دیے ہوئے میں سے خرچ کرو — یعنی جان اور مال دونوں سے۔ جیسے کوئی جب اپنے ماں باپ کی خدمت کرتا ہے تو اللہ نے جو اسے جان و مال دیا ہے اس جان و مال سے وہ ماں باپ کی خدمت بجا لاتا ہے۔ جان و مال سے تحفہ دیتا ہے— یہی ہے *اللہ کا بندہ۔* اللہ پروردگار نے اس بندے پر محبت میں خدمت فرمائی، خدمت میں اسے محبت عطا کی، اور محبت میں اسے ہدیہ و تحفہ دیا۔ جس طرح بندہ ماں باپ کی خدمت میں اپنی وہی جان و مال جو اللہ نے اسے دی تھی اسی جان و مال کو ہدیہ بناتا ہے، اسی طرح یہاں بندہ اللہ سبحان و تعالیٰ کی خدمت میں اپنی ساری محبت اور اپنی ساری عطا پیش کرتا ہے اوراللہ اور اللہ کے بندے کے حضور ہدیہ پیش کرتا ہے تو دراصل وہ اللہ پروردگارکا دیا ہدیہ پیش کر رہا ہوتا ہے جو اللہ نے اپنی انتہائی محبت دے کر اسے دیا تھا۔
وہاں بندہ اپنی جان و مال سے ماں باپ کی خدمت کرتا ہے، اور یہاں اللہ پروردگار کی محبت میں، اللہ کی خدمت میں، اُس ہدیہ و تحفے کے ذریعے خدمت کرتا ہے جو اُسے محبت میں عطا ہوا ہوتا ہے۔ نعت ہو، منقبت، تحریر، تصنیف، تلاوت یا سماعت — جو بھی صورت میں یہ ہدیہ پیش کیا گیا ہے، دراصل یہی وہ بات ہے کہ آپ نے محبت میں وہی ہدیہ واپس پیش کیا جو محبوب نے آپ کو اپنی محبت، رحمت اور خدمت میں دیا تھا۔ جیسے اللہ پروردگار اپنے بندوں پر سلامتی اور ہدیہ بھیجتا ہے، ویسے ہی آپ نے بھی محبت کے جواب میں وہی ہدیہ پیش کیا۔
یہ جان و مال کا ہدیہ نہیں، جیسا ماں باپ کی خدمت میں دیا جاتا ہے، بلکہ یہ محبت کا ہدیہ ہے جو اللہ اور اُس کے محبوب کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ماں باپ کی خدمت جان و مال سے ایک عظیم عبادت ہے، اور اللہ سبحان و تعالیٰ اور اُس کے محبوب کی خدمت محبت کے ساتھ، محبت میں، اُس سے بھی اعلیٰ عبادت ہے۔وہاں اللہ تعالیٰ بندے کو جان و مال عطا کرتا ہے تاکہ وہ ماں باپ کی خدمت میں پیش کرے، اور یہاں اللہ تعالیٰ اپنی محبت میں بندے کو ہدیہ دیتا ہے تاکہ وہ اُسی محبت کے ہدیے کو خدمت کے طور پر واپس پیش کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خدمت، محبت کی معراج اور عبادت کی انتہا بن جاتی ہے — اور اسی کا نام ہے *خدمت*۔
یہی وہ حقیقت ہے کہ جو خادم ہوتا ہے وہی مخدوم ہوتا ہے۔ جسے اللہ سبحان و تعالیٰ اپنا محبوب بناتا ہے، وہی حقیقی محبوب ہوتا ہے اور وہی محبت کی اصل پہچان رکھتا ہے۔ باقی لوگ اس راز سے بے خبر رہتے ہیں۔ اس لیے ابتدا یہی ہے کہ انسان اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال خرچ کرے — یہی عبادت ہے۔ پھر عبادتوں میں سب سے بلند عبادت ماں باپ کی خدمت ہے، اور اس سے بھی اعلیٰ وہ عبادت ہے جو انتہائی محبت کے درجے میں اللہ اور اُس کے محبوب بندے کی خدمت ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ وہ اپنے بندے پر احسان فرماتا ہے، اور پھر بندہ اللہ کے بندوں پر احسان کرتا ہے۔ یہی وہ باتیںہیں کہ ہوتے ہوتے جب یہ باتیں ہوتی ہیں، تو ان باتوں میں ایک مجلس ہوتی ہے ، ایک درس ہوتا ہے اور یہ درس دینے والا اور یہ مجلس بپا کرنے والا ، اللہ ہوتا ہے یا اللہ کا بندہ ہوتا ہے۔
اللہ سبحان و تعالیٰ آپ کی محبت کے اس ہدیے، اس سوغات کو جو اعلیٰ ترین خدمت و عبادت کے جذبے میں پیش کی گئی ہے، قبول و منظور فرمائے، اپنے بندوں کے مقام و درجات بلند فرمائے، اور ہمارے سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ، جو محبوبوں کے محبوب اور ہمارے محبوب ہیں،اللہ سبحان وتعالیٰ ان کے درجات کو بھی بے شمار بلندی عطا فرمائے اور ان کے صدقے ہمارے تمام بزرگان، والدین کی بھی مغفرت فرمائے۔ اور اللہ سبحان وتعالیٰ اپنی محبتوں میں جو ہمیں دینا چاہتا ہے وہ ہم اللہ کے حضور اللہ سے لینے والے ہوں*وَمَا تَوْفِیقِی اِلَّا بِاللّٰہ۔*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں